ای او بی آئی پنشن)قسط دوئم(

119

اسرار ایوبی
آزادی کے بعد وطن عزیز میں مسلح افواج ، سرکاری اور خود مختار محکموں سمیت دیگر اداروں میں ملازمین کی سبکدوشی کے موقعہ پر پنشن کی ادائیگی کا نظام موجود تھا ۔لیکن نجی شعبہ کے ملازمین کے لیے ملازمت سے سبکدوشی کی صورت میں کسی قسم کی پنشن کا تصور نہیں تھا۔یہ ملازمت پیشہ طبقہ ملکی ترقی و ترویج اور پیداواری عمل میں اپنی طویل جوانی گزاردینے اور اپنا خون و پسینہ بہانے کے باوجود ملازمت سے سبکدوشی کے وقت تقریبا خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا تھا۔ اس طبقہ کے بڑھاپے، معذوری اور وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کی گزر بسر کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی باعزت مالی سہارا میسر نہ تھا ۔70ء کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں پہلی بار محنت کش طبقہ کو درپیش اس اہم مسئلہ کی جانب سنجیدگی سے توجہ دی گئی اور وفاقی وزارت محنت وافرادی قوت کے زیر اہتمام دنیا کے دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں رائج محنت کشوں کے لیے مختلف پنشن منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسی طرز پر وطن عزیز کے نجی شعبہ کے ملازمین کے لیے باقاعدہ طور پرضعیف العمر ملازمین فوائد منصوبہ (Employees Old-Age Benefits Scheme)پر کام کا آغاز کیا گیا۔مختلف پنشن منصوبوں پر کافی غوروخوض کے بعد وفاقی حکومت نے عالمی ادارہ محنت(ILO) کے توثیق شدہ کنونشنز کی روشنی میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعہ ملک بھر میں ضعیف العمر ملازمین فوائد ایکٹ 1976 ء(Employees’ Old-Age Benefits Act 1976) کا اطلاق کیا اور بعد ازاں یکم جولائی1976کو باقاعدہ طور پر وفاقی سطح پرایک محکمہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن(ای او بی آئی) کا قیام عمل میں لایا گیا ۔اس وقت کے وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت جناب عبدالستار گبول نے کراچی میں نجی شعبہ کے ملازمین اور محنت کشوںکے لیے اس قومی پنشن منصوبہ کا افتتاح کیا۔اس سلسلہ میں کراچی میں ایک افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزارت محنت کے اعلیٰ حکام کے علاوہ ممتاز آجران اور مزدور رہنمائوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ چونکہ ای او بی آئی کے قیام کا بنیادی مقصد نجی شعبہ کے ملازمین کو ان کے آجران کی مالی اعانت(Contribution) کے ذریعہ سماجی بیمہ منصوبہ اورضعیف العمر ملازمین فوائد قانون1976 کے تحت رجسٹر کرکے انہیں بڑھاپے میں پنشن کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ لہٰذا اس ادارہ کے قیام کے ابتدا ئی برسوں میں محکمہ ای او بی آئی کی تشکیل اور پنشن منصوبہ کے بنیادی ڈھانچہ کو مرتب کرنے کا اہم کام اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے سپرد کیا گیا اوراس وقت کے چیئرمین اسٹیٹ لائف جناب ڈی ایم قریشی کو چیئرمین ا ی او بی آئی کی اضافی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔اسی طرح نوزائیدہ ادارہ ای او بی آئی کی تشکیل نو اور اسے منظم کرنے کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن سے صنعت بیمہ کاری کے ماہر اور تجربہ کار عملہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔
ای او بی آئی کا پہلا صدر دفتر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی بلڈنگ نمبر2واقع ویلس روڈ متصل آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی کی دوسری اور چوتھی منزل پر قائم کیا گیا۔ جبکہ صوبہ پنجاب میں لاہور شہر میں صوبائی دفتر قائم کیا گیا۔اس دوران جناب این اے جعفری(نسیم عون جعفری) اور جناب پیٹرک سیکویرا بھی اسٹیٹ لائف کے چیئرمین کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ای او بی آئی کی سربراہی کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے ۔بلاشبہ ای او بی آئی جیسے نوزائیدہ ادارے کو پروان چڑھانے اوراسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں ان تینوں شخصیات کا بیحد اہم اور فعال کردار رہا ہے۔ ای او بی آئی نے اپنے محدود وسائل اور قلیل افرادی قوت کے باوجود جولائی 1976سے ہی ملک گیر سطح پر آجران اور ان کے ملازمین کی رجسٹریشن کے کام کا آغاز کردیا۔ بعد ازاں اسٹیٹ لائف کے چیئرمین کی حیثیت سے جناب نسیم عون جعفری اور جناب پیٹرک سیکویرا بھی چیئرمین ای او بی آئی کے منصب پر فائز رہ۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے 1982 میںسید عمران شاہ کو ای او بی آئی کا پہلا کل وقتی چیئرمین مقرر کیا۔سال1981 میں ای او بی آئی نے پی ای سی ایچ ایس کے علاقہ میں اپنے صدر دفتر کے لیے ایک کشادہ عمارت خرید لی اور صدر دفتر یہاں منتقل کردیا گیا۔ 1982کووفاقی حکومت نے گریڈ20کے ایک اعلیٰ افسرسید عمران شاہ کو ای او بی آئی کا کل وقتی چیئرمین مقرر کردیا۔جبکہ صوبہ پنجاب میں لاہور شہر میں دفتر قائم کیا گیاسال 1981میں ای او بی آئی نے ادارہ کے امور میں بے تحاشہ اضافہ کے پیش نظر کراچی کی معروف شارع، شارع فیصل سے متصل پی ای سی ایچ ایس کراچی میں اپنے صدر دفتر کے لیے ایک تین منزلہ کشادہ عمارت خرید لی۔اسی دوران وفاقی حکومت نے 1982میں گریڈ 20کے ایک سینئر افسر سید عمران شاہ کو ای او بی آئی کا اولین کل وقتی چیئرمین مقرر کردیا۔جبکہ صوبہ پنجاب میں لاہور شہر میں دفتر قائم کیا گیا
اس مقصد کے تحت کراچی ،لاہور،پشاور اور کوئٹہ میںصوبائی سطح پر دفاتر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جناب محمد اشرف ندیم نے صوبہ پنجاب ،جناب ایم جان محمد پراچہ اور جناب دلاور شاہ نے صوبہ سرحد اورآغا صفدر علی بختیاری نے صوبہ بلوچستان میں محدود دستیاب وسائل اور قلیل افرادی قوت کے باوجود ملک کے چھوٹے بڑے شہروں کے علاوہ صوبوں کے دور افتادہ علاقوں کا سفر کرکے آجر ان اور مالکان کو نجی شعبہ کے ملازم طبقہ کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والے اس نئی بیمہ منصوبہ سے متعلق آگہی و معلومات فراہم کیں اور ان کے ملازمین کو بھی اس پنشن منصوبہ کے فوائد سے روشناس کرایا۔چنانچہ ای او بی آئی کے افسران اور عملہ کی جہد مسلسل کے نتیجہ میں اس قومی پنشن منصوبہ کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی اور ہزاروںآجران اور ان کے لاکھوں ملازمین کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن اور کنٹری بیوشن کی وصولیابی کے امور میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔