میں خود کہوں تو میری داستاں دراز نہیں

80

چودھری اشرف
سائٹ تھانے کے ایس ایچ او کی ایک طرح کی مہربانی تھی کہ اُس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی میں FIR کاٹ دی۔ جس پر اُسے بریگیڈیئر صاحب سے بہت سخت سست سننا پڑا کیونکہ وہ کسی اور الزام میں گرفتاری ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ دفعہ معمولی تھی اور جیل میں قیدی بہت تھے اس لیے میرے جیسے قیدیوں کے لیے مقدمے کی کارروائی جیل کے اندر ہی کی جانی تھی۔ ایک دن مقدمے کی کارروائی کے دوران مجسٹریٹ نے میرے والد کا پیشہ پوچھا تو جواباً میں نے کہہ دیا ’’ہل چلانا‘‘۔ مجسٹریٹ تو آپے سے باہر ہوگیا کیونکہ ایک نعرہ ’’گنجے کے سر پر ہل چلے گا‘‘ بہت مقبول تھا۔ مجھے بھی غصہ آگیا۔ بات سخت جملوں کے تبادلوں اور مجھے سزا کی نوید تک پہنچ گئی۔ یہ تُو تڑاخ جاری تھی کہ مرحوم چودھری ظہور الٰہی اور جناب صلاح الدین ادھر آگئے۔ انہیں شاید میری بے باکی اچھی لگی۔ انہوں نے مجسٹریٹ کی سرزنش کی اور دھمکیوں سے باز رہنے کا کہا اور یوں میری گلوخلاصی ہوئی۔ یہ تعلق اُن دونوں بزرگوں سے اُن کے آخری دم تک قائم رہا۔ ان کے گرفتاری اور جیل یاترا کا یہ پہلا تجربہ نہ تھا۔ بلکہ اس سے قبل مرحوم ایس پی لودھی صاحب کے ساتھ پوسٹل یونین کے معاملے میں اُس دن گرفتاری ہوئی جس دن میرے بڑے بیٹے کی پہلی سالگرہ تھی۔ بعدازاں کراچی پورٹ کی یونین کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں بطور ’’پلے بیک سنگر‘‘ میری جناب مرحوم خورشید محمد خان (خورشید محمد نے مصروفیات کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی) اور ان کے دیگر ساتھیوں کے لیے مشاورت کی ڈیوٹی تھی۔ جب مذاکرات تقریباً مکمل ہوچکے تھے اور معاہدہ تحریر کرنے کا وقت آیا تو نہ جانے کس کے اشارے پر پورٹ انتظامیہ اپنی پیشکش سے دستبردار ہوگئی۔ یونین کے عہدیداران کو حکومت سندھ کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو کے دفتر میں بلایا گیا۔ میں قمر ہائوس میں بیٹھا تھا۔ سیکرٹری صاحب نے مزدور رہنمائوں سے چاہا کہ جو کچھ کے پی ٹی کی انتظامیہ اب دے رہی ہے اُسی پر معاہدہ کرلیں جسے ماننے سے انکار کرنے پر اپنی گرفتاری کی دھمکی دی گئی۔ جواباً خورشید محمد خان نے کہا کہ وہ اپنا یہ شوق پورا کرلیں اور ساتھ ہی سیدھے پن اور صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ اشرف کو گرفتار نہ کیا جائے کیونکہ وہ ٹوبیکو یونین اور فیڈریشن کا عہدیدار ہے اور کے پی ٹی کے مزدور رہنمائوں کی گرفتاری کے بعد یونین کے معاملات وہی بہتر سمجھتا ہے۔ سیکرٹری داخلہ سمجھے کہ اشرف کوئی بڑا موثر لیڈر ہے۔ لہٰذا اُس کی گرفتاری بہت ضروری ہوگی۔ شام کے وقت گرفتار ہو کر جب کھارادر تھانے پہنچا تو وہاں کے پی ٹی یونین کی ساری قیادت اور کئی غیر متعلقہ حضرات سے ملاقات ہوگئی۔ اگلے دن مجھے اور یونین کے جنرل سیکرٹری عبدالحق کوثر کو سکھر سینٹرل جیل اور خورشید محمد خان کو ڈسٹرکٹ جیل منتقل کردیا گیا۔ باقی لوگوں کو حیدر آباد اور کراچی جیل بھیج دیا گیا۔ جناب عبیدالرحمن ایڈووکیٹ کے ذریعے حبس بیجا کی پٹیشن کراچی ہائی کورٹ میں داخل کردی گئی۔ عدالت میں مجھے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ مرحوم جسٹس نورالعارفین نے ایک دھان پان لڑکے کو بیڑیوں میں دیکھا تو جرم کی نوعیت وغیرہ کے پیش نظر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ لیکن انتظامیہ نے کسی دوسرے جرم میں کٹی FIR کے تحت پھر جیل بھیج دیا۔ ایک اور پٹیشن فائل ہوئی۔ جج صاحب نے پھر اُسی لڑکے کو ہتھکڑیوں میں دیکھا تو حکم دیا کہ 11 بجے تک میرے خلاف جتنی FIR ہیں عدالت میں پیش کی جائیں۔ پتا چلا کہ نو تھانوں میں نو FIR ہیں۔ پڑھنے پر معلوم ہوا کہ ارتکاب ’’جرم‘‘۔ تاریخ، وقت، دن اور نوعیت ’’جرم‘‘ ایک ہی ہے یعنی میں نے ایک ہی وقت میں 9 تھانوں کی حدود میں جلسے کیے اور ملک اور فوج کے خلاف تقریریں کیں۔ جج صاحب بہت محظوظ ہوئے اور ریمارکس دیے کہ انہوں نے پڑھا ہے کہ سکھ مذہبی رہنما گوروگوبند سنگھ ایک وقت میں ایک سے زاید مقام پر نظر آتے تھے لیکن اس لڑکے نے تو کمال ہی کردیا کہ بیک وقت 9 مقامات پر نہ صرف نظر آیا ہے بلکہ مجمع میں تقریریں بھی کیں۔ ہوا یہ تھا کہ ہوم سیکرٹری صاحب نے پولیس کو حکم دیا کہ اشرف نامی آدمی کو فِکس (FIX) کیا جائے۔ ایس پی صاحب نے وائرلیس پر فرمان جاری کردیا اور ان کے ماتحت ہر تھانہ حرکت میں آگیا اور ڈیفنس آف پاکستان رولز (DPR) کا جرم بنا کر FIR کاٹ دی گئیں۔ تین ماہ تک مختلف جیلوں میں گھما پھرا کر بین الاقوامی ٹریڈ یونینز کے دبائو کے تحت ہم سب کی رہائی عمل میں آئی۔ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کا نمائندہ حقائق معلوم کرنے پر پاکستان آیا۔ حکومت نے جیل میں ملاقات کے لیے اجازت نامہ جاری کردیا لیکن ’’قیدی‘‘ کی جیل بدل دی۔ دوسری دفعہ بھی یہی ہوا تو وہ واپس چلا گیا۔ جس سے حکومتی مشینری کی بدنیتی واضح ہوگئی۔ میری تعلیم، چھوٹا موٹا تجربہ اور تجربہ کار اکابرین ٹریڈ یونین کے ساتھ نے مجھے معاملات سمجھنے میں بڑی مدد دی۔ اللہ نے منہ پر سچ کہنے کی جرأت بھی عطا کی تھی جس کی وجہ سے وقتی طور پر ’’بڑے لوگوں‘‘ کے غیض و غضب کا نشانہ بھی بنا لیکن فائدہ یہ ہوا کہ سینئر ٹریڈ یونین رہنما جو تلخ بات ارباب اقتدار کے گوش گزار کرنا چاہتے اسے پیش کرنے کا قرعہ میرے نام نکلتا۔ یوں کم عمری میں سینئر رہنمائوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی جگہ بنتی چلی گئی۔ ناراض ہونے والوں میں جناب زیڈ اے بھٹو وزیراعظم پاکستان جنہوں نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُلٹا افسران کو ڈانٹا کہ اسے بولنے دیا جائے۔ جنرل فیض علی چشتی جو مارشل لاء میں وزیر محنت تھے اور سیکرٹری لیبر کنور ادریس تو آپے ہی سے باہر ہوگئے۔ لیکن سینئر رہنمائوں کے ردعمل نے میرے لیے ڈھال کا کام کیا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بین الاقوامی طور پر کئی ممالک میں ہونے والی کانفرنسوں وغیرہ میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع دیا۔ تحقیقی کام، ٹریڈ یونین تعلیم، مزدور قوانین وغیرہ کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف فری ٹریڈ یونینز، انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن، انٹرنیشنل ٹیکسٹائل اینڈ گارمنٹس وغیرہ جیسے اداروں کے لیے کام کرنے اور ملکی سطح پر ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان، پی این ایف ٹی یو، پی ڈبلیو ایف، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایڈمنسٹریشن ٹریننگ، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن موجودہ (NIM)، انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کئی کثیر الملکتی ادارے اور بڑے قومی اداروں وغیرہ کے لیے تعلیمی کورسز کا انعقاد اور مزید برآں پچھلے 12/14 سال سے ہمدرد اسکول (ہمدرد یونیورسٹی) میں مزدور اور سول سرونٹس لاز پڑھانے کے تجربے نے مجھے بہت فائدہ دیا۔ میں نے بہت سیکھا اور میرے علم میں اضافہ ہوا۔
جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں مرحوم عمر اصغر وزیر محنت تھے۔ انہوں نے انڈسٹریل ریلیشنز آرڈیننس 2002ء ڈرافٹ کروایا اور مسودہ جاری کردیا کہ مزدور، تنظیمیں اور آجران اپنی تجاویز یا مشترکہ موقف پیش کریں۔ مزدور تنظیموں کی خواہش پر اُن کی تکنیکی مدد کے لیے میرا انتخاب ہوا۔ تمام معاملات کئی دنوں کی محنت اور اجلاس کے بعد طے پاگئے۔ قانون کی خلاف ورزی پر سزائوں کے دفعات کے حوالے سے آجر حضرات کا موقف تھا کہ قید کی سزا کو ختم کرکے جرمانہ رکھا جائے۔ مزدوروں کے لیے جرمانہ بھاری اور آجران کے لیے قید کی سزا تکلیف دہ تھی۔ قوانین کے آخر میں صفحہ نمبر 2 ’’آجر اور مزدور یونین کے حقوق و فرائض‘‘ شامل کیا گیا۔ جناب فصیح الکریم صدیقی اور جناب احسان اللہ خان کی صلاحیتوں کا میں اُس دن قائل ہوگیا جب باوجود میری بھرپور بریفنگ اور اس کے مضمرات کے سارے بزرگ ٹریڈ یونین رہنمائوں نے ان دونوں باتوں کو مان لیا۔ میں آج بھی ان کے مضمرات پر قائم ہوں۔ واضح رہے کہ پرویژن (مشقوں) IRA-2012 میں بھی ایسے ہی نہیں۔ دستورِ پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں مزدور قوانین، محنت اور ٹریڈ یونین صوبائی معاملہ ہوگیا۔ صوبوں کو اپنے قوانین بنانے کی ضرورت درپیش ہوئی۔ آئی ایل او نے حکومت سندھ کو اور شاید دوسرے صوبوں کو بھی مالیاتی اور تکنیکی تعاون دیا۔ سندھ کے لیے مجھے بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ نامزد کیا۔ کچھ قوانین تو حکومت سندھ بغیر کسی خاص مشاورت کے پہلے ہی نافذ کردیے اور باقیوں پر جب مشاورت شروع ہوئی تو پہلے مزدور رہنما چند اجلاس کے بعد دلچسپی کھو بیٹھے بعدازاں آجران نے تحریری تجاویز پر اکتفا کیا۔ شاید مخصوص نوکر شاہی انداز اور طریقہ قانون سازی سے اُکتا گئے۔ یوں وزارتوں کے افسران کی خواہشات کے مطابق قانون سازی مکمل طور پر یک طرفہ کارروائی بن کر رہ گئی۔ ایسے ہی ایک اجلاس میں رانا محمود علی خان نے اپنی تقریر میں کہا جس طرح کا EOBI قانون بنا ہے انہیں چودھری اشرف کی موجودگی میں اس کی امید نہ تھی۔ یہ موقع غنیمت تھا کہ میں نے وضاحت کی میرا اس قانون بنانے میں کوئی کردار نہ تھا۔ وہاں موجود وزارت قانون کی خاتون افسر نے رانا محمود کی موجودگی میں مجھے کہا کہ اتفاق رائے کے لیے کیوں ہلکان ہورہے ہو ان تجاویز کو کس نے دیکھا ہے۔ گویا
ناحق ہم مجبوروں پہ یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں سو آپ کریں ہم کو عبت بدنام کیا
میں نے علیحدہ ہونا چاہا تو مجھے منع کردیا گیا کہ موجودگی سے کچھ تو فائدہ ہوگا جو کہ واقعی کئی مواقع پر آجر نمائندگان سے میری ذاتی درخواست اور دلائل سے کئی بہتر شقوں کا اضافہ ہوسکا۔ مزدور رہنما اور آجر حضرات گواہ ہیں کہ اسمبلی سے قانون سازی کے بعد سے اب تک قوانین کو بہتر کرنے کی کوششیں اور تجاویز جاری ہیں کہ
’’پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ‘‘
(ختم شد)