اے پی سی: ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہین اسے لانے والوں سے ہے، نواز شریف

212

لندن میں موجود علاج کی غرض سے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ  سی پیک کے ساتھ پشاورکی بی آرٹی جیسا سلوک کیا جارہا ہے.

پیپلز پارٹی کی میزبانی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ آ صف زراری، بلاول بھٹو  اور مولانا فضل الرحمان کا بے حد شکر گزار ہوں اور بلاول بھٹو نے جس محبت سے بات کی وہ کبھی نہیں بھولوں گا، میری بہت سی دعائیں آصف زرداری اور آپ سب کیلئے ہیں.

انہوں نے کہا کہ میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی جانتا ہوں کہ ملک کن حالات سے گزررہا ہے، آب سب جانتے ہیں کہ پاکستان کو 73سال سے کن مسائل کا سامنا ہے، پاکستان کی خوشحالی  کیلئے ضروری ہے کہ  اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں.

نواز شریف نے کہا کہ نیب کے کردارکا جائزہ لینا ضروری ہے، ایک غیر مقبول کٹھ پتلی حکومت کو دیکھ کر بھارت نے کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا، کیوں آج دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں؟ کیوں ہم تنہائی کا شکار ہیں؟.

اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی اس بات سے متفق ہوں کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کے فیصلے کرنا ہونگے، میں مولانا فضل الرحمان کی سوچ پر  متفق ہوں.

نوازشریف نے کہا کہ ڈکٹیٹر کو بڑے سے بڑے جرم پر کوئی اسے چھوبھی نہیں سکتا،ایک ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلا خصوصی عدالت بنی، کارروائی ہوئی،سزا سنائی گئی لیکن کیاہوا؟ کیا ڈکٹیٹر کو سزا ملی؟ جبکہ آئین پرعمل کرنے والے ابھی تک کٹہروں اورجیلوں میں ہیں.

لیگی قائد نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ایک ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا،1 کروڑ نوکریوں کا جھانسا دینے والوں نے لوگوں کا روزگار چھین لیا، اس نااہل حکومت نے پاکستان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے.