تعلیم سے دشمنی یا خوف

288

خدا خدا کرکے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مرکز اور صوبوں کے درمیان باقاعدہ اجلاس ہوئے، اس کے بعد اسکولز اور کالجز کھولنے کا شیڈول تیار ہوا، سب متفق ہوئے لیکن ایک بار پھر سندھ اور وفاق میں اسکولز اور سیکنڈری کلاسز کے مسئلے پر اختلاف ہوگیا۔ سندھ حکومت نے جمعے کے روز اعلان کردیا کہ 21 ستمبر سے چھٹی تا آٹھویں کلاسز کو نہیں کھولیں گے۔ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے بتایا کہ بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتے، جبکہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ کلاسز مقررہ تاریخوں ہی سے شروع ہوں گی۔ بظاہر یہ کسی فیصلے پر عملدرآمد میں چھوٹا سا اختلاف رائے ہے لیکن اس سے نقصان کس کا ہورہا ہے، کون نتائج بھگتے گا، اس سے اختلاف کرنے والوں کو کوئی سروکار نہیں۔ صوبائی وزیر نے جس بنیاد پر کلاسز نہ کھولنے کا اعلان کیا ہے وہ یہ ہے کہ اسکولوں میں ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا۔ لیکن اتفاق سے جسارت ہی کے رپورٹر کی خبر ہے کہ سندھ حکومت جن ایس او پیز کا بہانہ بنا کر کلاسز شروع کرنے سے انکار کررہی ہے خود ان کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا۔ یہ بات کرنے سے قبل اگر صوبائی وزیر پہلے مرحلے کی رپورٹ لے لیتے تو ایس او پیز پر عمل نہ ہونے کا شکوہ نہ کرتے۔ حکومت سندھ تعلیمی اداروں کو ماسک اور سینی ٹائزر فراہم کرنے میں ناکام رہی، یہ اعلان صرف اعلان بن کر رہ گیا کہ حکومت اسکولوں کو یہ اشیا فراہم کرے گی۔ سرکار کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام اداروں کی طرف تو بالکل توجہ نہیں کرتی اور نجی اداروں کی جانب ہر وقت تنقیدی نظر رکھتی ہے۔ چناں چہ سندھ میں ہزاروں اسکولز بجلی، پانی اور واش رومز سے محروم ہیں، کسی قسم کے ایس او پیز پر عملدرآمد سے قبل بنیادی سہولتیں اور صحت و صفائی کے انتظامات تو ہونے چاہیے تھے۔ جب اسکولوں میں پانی نہیں ہوگا، واش رومز نہیں ہوں گے تو بچوں کی صحت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا کیا حال ہوگا۔ صفائی کے بغیر عام حالات میں صحت کو خطرہ رہتا ہے اور خصوصاً بچوں کے اسکولوں کا یہ حال ہو تو ایس او پیز پر عمل بھی کس کام کا۔ ویسے حکومت یہ بھی بتائے کہ عالمی وبا سے پہلے اسکولوں، بچوں کے لیے صحت مند اور صاف غذا، صاف پانی اور دوائوں وغیرہ کی کیا سہولتیں حکومت فراہم کرتی تھی۔ کیا اس وقت بچوں کی صحت پر سمجھوتا نہیں ہوا تھا، ہر سال پاکستان میں 24 ہزار کے لگ بھگ بچے مناسب غذا نہ ملنے اور صاف پانی کی عدم دستیابی سے مرجاتے ہیں۔ اتنے تو لوگ اس عالمی وبا میں پورے ملک میں نہیں مرے اور بچوں کی یہ ہلاکتیں پہلے بھی ہوتی تھیں اور اب بھی ہر سال ہوتی ہیں۔ علاج میں غفلت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے حکومت نے اس پر مکمل سمجھوتا کر رکھا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں روزانہ درجنوں بچے غلط علاج، دوائوں یا ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں، صرف قومی ادارہ برائے امراض اطفال کی رپورٹ ہے کہ وہاں روزانہ 6 سے 8 بچوں کی ہلاکت ہوتی ہے۔ جبکہ کراچی میں عباسی شہید، قطر، سول اسپتال، لیاری جنرل اسپتال سمیت درجنوں اسپتالوں کی یہی صورتحال ہے۔ اندرون سندھ کی تو بات ہی نہیں کی جاسکتی۔ تو ان اموات پر ایک دو برس نہیں برسہا برس سے سمجھوتا کیوں ہورہا ہے۔ وفاقی حکومت صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ شیڈول تبدیل نہیں ہوا ہے۔ جب مشترکہ اجلاس میں معاملہ طے پایا تھا تو وفاق کی ذمے داری ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد کرائے۔ ملک کے مستقبل کے ساتھ وفاق اور سندھ کی حکومتوں کا رویہ سامنے آگیا ہے۔ ان کی ترجیحات میں تعلیم دور دور تک نہیں ہے۔ ابھی تو چوروں ڈاکوئوں کے پیسوں سے تعلیم کے فروغ کے منصوبے والے لطیفے پر قوم ردعمل دے رہی تھی کہ اسکولوں ہی کو کھولنے کے مسئلے پر تنازع شروع ہوگیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں اور سنجیدگی اختیار کریں۔ تعمیرات، کاروبار، ٹرین، فیکٹری، ہول سیل مارکیٹ وغیرہ سب کھولے جاسکتے ہیں اور کہیں ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ اسپتالوں تک میں ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ سرکاری اسکولوں میں ایس او پیز کا خیال رکھنا بھی حکومتوں کی ذمے داری ہے۔ اور سرکاری اسکولوں کی ذمے داری تو ہر حال میں سرکار کی ہوتی ہے۔ لیکن ایس او پیز کی خلاف ورزی پر صرف نجی تعلیمی اداروں کو بند کیا جارہا ہے۔ اگر ایس او پی کی پابندی کرانی ہے تو پہلے سرکاری اسکولوں میں کرائی جائے۔ پرائیویٹ ادارے تو اس پر پہلے ہی بھرپور توجہ دیتے ہیں اور جس چیز کا خوف پھیلانے کا سلسلہ پھر شروع کردیا گیا ہے اس کے بارے میں تو عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے پاکستان کو کلیئر قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کے نمائندے نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی وبا پر قابو پالیا اور اس نے پاکستان کے اقدامات کی تعریف بھی کی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ سندھ کی حکومت اس تبصرے کو چھوڑ کر اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ اور اگر اسے یقین ہے کہ وبا پھیل رہی ہے تو اسباب پر غور کرے کہ سندھ میں غلاظت، گندا پانی، بیماریوں کے اسباب وغیرہ سب تو حکومت کے پھیلائے ہوئے ہیں۔