وادیٔ القریٰ

137

/صفی الرحمن مبارکپوری

رسول اللہؐ خیبر سے فارغ ہوئے تو وادی القریٰ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی یہود کی ایک جماعت تھی۔ اور ان کے ساتھ عرب کی ایک جماعت بھی شامل ہوگئی تھی۔جب مسلمان وہاں اترے تو یہود نے تیروں سے استقبال کیا۔ وہ پہلے سے صف بندی کیے ہوئے تھے۔ رسول اللہؐ کا ایک غلام مارا گیا۔ لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت مبارک ہو۔ نبیؐ نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے جنگ خیبر میں مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے جو چادر چرائی تھی وہ آگ بن کر اس پر بھڑک رہی ہے۔ لوگوں نے نبیؐ کا یہ ارشاد سنا تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبیؐ نے فرمایا : یہ ایک تسمہ یا دو تسمے آگ کا ہے۔اس کے بعد نبیؐ نے جنگ کے لیے صحابہ کرامؓ کی ترتیب اور صف بندی کی۔ پورے لشکر کا عَلَم سعد بن عْبادہؓ کے حوالے کیا۔ ایک پرچم حْباب بن مْنذرؓ کو دیا اور تیسرا پر چم عْبادہ بن بشرؓ کو دیا اس کے بعد آپؐ نے یہود کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے قبول نہ کیا۔ اور ان کا ایک آدمی میدانِ جنگ میں اترا۔ ادھر سے زبیر بن عوامؓ نمودار ہوئے۔ اور اس کا کام تمام کردیا۔ پھر دوسرا آدمی نکلا۔ زبیرؓ نے اسے بھی قتل کردیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے کے لیے علیؓ نکلے اور اسے قتل کردیا۔ اس طرح رفتہ رفتہ ان کے گیارہ آدمی مارے گئے، جب ایک آدمی مارا جاتا تو نبیؐ باقی یہودیو ں کو اسلام کی دعوت دیتے۔
اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تو آپؐ صحابہ کرامؓ کو نماز پڑھاتے اور پھر پلٹ کر یہود کے بالمقابل چلے جاتے اور انہیں اسلام، اللہ اور اس کے رسولؐ کی دعوت دیتے۔ اس طرح لڑتے لڑتے شام ہوگئی۔ دوسرے دن صبح آپؐ پھر تشریف لے گئے۔ لیکن ابھی سورج نیزہ برابر بھی بلند نہ ہوا ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ تھا اسے آپؐ کے حوالے کردیا۔ یعنی آپ نے بزورِ قوت فتح حاصل کی اور اللہ نے ان کے اموال آپؐ کو غنیمت میں دیے۔ صحابہ کرامؓ کو بہت سارا سازوسامان ہاتھ آیا۔رسول اللہؐ نے وادیٔ القریٰ میں چار روز قیام فرمایا۔ اور جو مال ِ غنیمت ہاتھ آیا اسے صحابہ کرامؓ پر تقسیم فرما دیا۔ البتہ زمین اور کھجور کے باغات کو یہود کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ اوراس کے متعلق ان سے بھی (اہل ِ خیبر جیسا) معاملہ طے کر لیا۔