فکرِ آخرت اور دنیا…

145

/سید لطف اللہ فلاحی

صحابہ کرامؓ اور صلحاء عظام کی زندگیوں پر فکرِآخرت غالب رہتی تھی مگر ایسا نہیں تھا کہ اس فکر سے وہ دنیا ہی سے کنارہ کش ہوگئے ہوں بلکہ آخرت کی کامیابی کی خاطر انہوں نے دنیا میں جانوں اور مالوں کی قربانیاں دے کر اسلامی انقلاب کوکامیاب بنایا۔ اسلام کو نافذ کیا۔ خلافت راشدہ کی ذمے داریاں بخوبی نبھائیں۔ سب کچھ اس لیے کیا کہ آخرت سنور جائے۔ فکر آخرت کا اقامتِ دین سے لازم وملزوم کا رشتہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ اقامتِ دین کی جدوجہد میں لگنے والے لوگ کفن پوش ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ آخرت میں اپنے مالک حقیقی کے سامنے سرخرو ہوجائیں۔ وہ ان سے خوش ہوجائے اور اپنی خوشنودی کا گھر جنت مرحمت فرمائے۔
اقامتِ دین کی جدوجہد کرنے والے ہر کارکن کو فکر آخرت کے لحاظ سے اپنے حالات کا صحیح جائزہ خود لینا چاہیے۔ ہم میں ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ اس کے دل میں آخرت کی فکر کتنی ہے؟ جس قدر یہ فکر مضبوط ہوگی اتنا ہی وہ اللہ کی راہ میں سرگرم عمل ہوگا۔ جس کے اندر اس فکر میں جس حدتک سستی ہوگی۔ وہ اسی قدر راہِ خدا میں جدوجہد کرنے میں سست رفتار ہوگا۔
رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے ایک پردیسی پردیس میں رہتا ہے۔ وہ اس مقام کو اپنا وطن نہیں سمجھتا۔ اسی طرح اس دنیا میں اس مسافر کی طرح رہو جوکسی سرائے کو اپنا مستقل گھر نہیں سمجھتا۔ رسولِ اکرمؐ نے اس بات کی تشریح ایک دوسری حدیث میں اس طرح فرمائی کہ مجھے دنیا سے کوئی تعلق نہیں میری اور اس دنیا کی مثال اس سوار کی مانند ہے جو کسی درخت کے سائے میں دوپہر کاٹتا ہے پھر وہ رختِ سفر باندھتا ہے اوراس درخت کے سایہ کوچھوڑ دیتا ہے۔
امیر المومنین سید نا علی ابن ابی طالبؓ کا قو ل ہے: ’’یہ دنیا تمہارے قرار کی جگہ نہیں ہے۔ اللہ نے اس دنیا کے بارے میں فنا کا فیصلہ کیا ہے اور دنیا کے رہنے والوں کے لیے کوچ لازم قرار دیا ہے‘‘۔ عبداللہ بن عمرؓ نے بھی اس حدیث کی شرح بیان فرمائی ہے کہ انسان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے۔ ایک سیکنڈ بھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی لہٰذا انسان کو ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی صبح بخیر وخوبی بسر ہوئی تو ضروری نہیں کہ اس کی شام بھی بخیر وخوبی گزرے گی۔
’’فارغ البالی میں زیادہ سے زیادہ رکوع وسجود سے کام لو۔ ہوسکتا ہے کہ یکایک تمہاری موت آجائے۔ اس لیے کہ کتنے ہیں جنہیں بیماری کے بغیر موت آئی اور تندرست وتوانا انسان چشم زون میں موت کی نذر ہوگئے‘‘۔
اور یہ جو فرمایا کہ اپنی صحت کو بیماری سے پہلے اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔ اس کی تشریح رسول اللہؐ کی دوسری حدیث سے ہوتی ہے۔ جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے، صحت کو بیماری سے پہلے، تونگری کو فقر سے پہلے، فراغت کو مصروفیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے‘‘۔ان آیات واحادیث کا لب لباب یہی ہے کہ ہمیں فکر آخرت ہونی چاہیے۔ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینا چاہیے۔ آخرت کی سرخروئی پر ہم سب کی نگاہ ہونی چاہیے۔’’دنیا میں تمہارا سفر مسافر کی مانند ہے اور ہر مسافر کے لیے زادِ راہ کا ہونا لازمی ہے اور جوکوئی کسی جابر کے خوف سے ڈرتا ہو اس کے لیے ہتھیاروں کا بندوبست ضروری ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ ہماری زندگیوں میں فکر آخرت کو پیدا فرمادے۔ ہماری ساری جدوجہد فکر ِ آخرت کے نتیجے میں ہو اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین