افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

108

 

صحابہ کرامؓ
وہ (صحابہ کرامؓ) اپنے ایمان کی پختگی، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت اور ایمانی فراست کی وجہ سے کفار کے مقابلے میں پتھر کی چٹان کا حکم رکھتے تھے۔ وہ موم کی ناک نہیں ہیں کہ انہیں کافر جدھر چاہیں موڑ دیں۔ وہ نرم چارہ نہیں ہیں کہ کافر انہیں آسانی کے ساتھ چبا ڈالیں، انہیں کسی خوف سے دبایا نہیں جا سکتا۔ کافروں میں طاقت نہیں ہے کہ انہیں اس مقصد عظیم سے ہٹادیں جس کے لیے وہ سر دھڑ کی بازی لگا کر محمدؐ کا ساتھ دینے اٹھے تھے۔
(ماہنامہ ترجمان القرآن مارچ 1966)
٭…٭…٭
صحابہؓ کا مقام
ہم صحابہ کرامؓ کو دنیا کا سب سے ذیادہ اتقی و اصلح گروہ قرار دیتے ہیں یہ حکم ان کی مجموعی سیرت کے لحاظ سے ہیں۔ (رسائل ومسائل ج سوئم ص 169)
٭…٭…٭
برداشت کی حقیقت
قرآنِ حکیم نے سب معاملات میں تحمّل و برداشت کی تعلیم دی ہے مگر ایسے کسی حملے کو برداشت کرنے کی تعلیم نہیں دی جو دینِ اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں پر اسلام کے سوا کوئی دوسرا نظام مسلّط کرنے کے لیے کیا جائے۔ اس نے سختی کے ساتھ حکم دیا ہے کہ جو کوئی تمہارے انسانی حقوق چھیننے کی کوشش کرے، تم پر ظلم و سِتم ڈھائے،
تمہاری جائز ملکیتوں سے تم کو بے دخل کرے۔ تم سے ایمان و ضمیر کی آزادی سلب کرے۔ تمھیں اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکے، تمھارے اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنا چاہے اور اس وجہ سے تمھارے درپے آزار ہو کہ تم اسلام کے پیرو ہو، تو اس کے مقابلے میں ہرگِز کمزوری نہ دکھاؤ اور اپنی پوری طاقت اس کے اِس ظلم کو دفع کرنے میں صَرف کردو۔ (الجہاد فی الاسلام)
٭…٭…٭
قرآن… خیر کا سرچشمہ
قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اِس سے مانگو گے یہ تمہیں دے گا۔ تم اِس سے محض جِن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ذلیل و بے حقیقت چیزیں مانگتے ہو تو یہی تمہیں ملیں گی۔
اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرشِ الٰہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو یہ تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا۔
یہ تمہارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بْوندیں مانگتے ہو، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے۔(خطبات)
٭…٭…٭
جھوٹے خداؤں کی حقیقت
مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے اْلٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحبِ قبر کی شانِ معبْودیّت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا درباِ رِ خدا وندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پْجاری اس کا مجسّمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناوٹی خدا بیچا رے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوندِ عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔ (تفہیم القرآن، سورہ انعام، حاشیہ 10)