امریکا بدمعاش ریاست کیوں ہے؟

560

نوم چومسکی امریکا کے سب سے بڑے دانش ور ہیں۔ وہ علم لسانیات کے بڑے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ نوم چومسکی پوری قوت کے ساتھ امریکا کو ’’بدمعاش ریاست‘‘ کہتے ہیں۔ بہت سے لاعلم لوگ نوم چومسکی کے اس فقرے پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا کی پوری تاریخ ہی بدمعاشی کی تاریخ ہے۔ امریکا وجود میں ہی بدمعاشی کے ساتھ آیا۔ امریکا سفید فاموں کا ملک نہیں تھا۔ امریکا ریڈ انڈینز کا ملک تھا مگر سفید فاموں نے طاقت کے زور پر امریکا کو قبضے میں لے لیا۔ انہوں نے امریکا کو قبضے میں لینے کے لیے ’’صرف‘‘ 10 کروڑ ریڈ انڈینز کو قتل کیا۔ اس طرح انہوں نے پورے ’’Americas‘‘ کو خون سے نہلا دیا۔ اس کے باوجود بھی امریکی خود کو ’’معصوم‘‘ سمجھتے ہیں۔ امریکا کی ممتاز دانش ور سوسن سونٹیگ نے ایک بار کہہ دیا تھا کہ امریکا کی تو بنیاد ہی نسل کشی پر رکھی ہوئی ہے۔ سوسن سونٹیگ کی یہ حق گوئی امریکیوں کو اتنی بُری لگی کہ ہر طرف سے غدار، غدار کی صدائیں آنے لگیں۔
تاریخ میں امریکا کی بدمعاشی روز روشن کی طرح عیاں ہے مگر چند روز پیش تر امریکا کی بدمعاشی بلکہ شیطنت کی گواہی خود امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی ہے۔ روزنامہ جسارت کی ایک خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون اسلحہ فروخت کرنے کے لیے جنگیں کراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینٹاگون جنگیں کراتا ہے لیکن وہ خود امریکا کو کبھی ختم نہ ہونے والی جنگوں سے نکال رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر وائٹ ہائوس میں میڈیا بریفنگ کے دوران پینٹاگون پر برس پڑے۔ انہوں نے کہا کہ پینٹاگون اسلحہ بنانے والی کمپنیوں کو نوازنے کے لیے دنیا بھر میں جنگیں کراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینٹاگون کے عہدیدار جنگوں کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ میں امریکا کو جنگوں سے نکال رہا ہوں مگر جرنیل میرے ساتھ نہیں ہیں۔ (روزنامہ جسارت 9 ستمبر 2020ء)
دیکھا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی انکشاف نہیں کیا۔ دنیا پہلے ہی جانتی ہے کہ امریکا ساری دنیا میں جنگیں کراتا ہے۔ قوموں کے درمیان کشیدگی پیدا کرتا ہے۔ لیکن بہرحال ڈونلڈ ٹرمپ کی گواہی گھر کے بھیدی کی گواہی ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے کہ امریکا نے سرد جنگ کے دوران یورپ کو یہ باور کرایا کہ اس کی سلامتی کو سوویت یونین سے خطرہ ہے۔ اس خطرے کی آڑ میں امریکا نے یورپ کو کھربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ اگرچہ سرد جنگ ختم ہوگئی مگر یورپ ابھی تک امریکا کی گرفت سے نہیں نکلا ہے۔ کمیونزم ختم ہوگیا سوویت یونین مٹ گیا، مگر اب امریکا چین کو ایک بڑا خطرہ بنا کر پیش کررہا ہے۔ وہ یورپ سے کہہ رہا ہے کہ اگر اس نے امریکا کے ساتھ مل کر چین کی طاقت کو بڑھنے سے نہ روکا تو چین پوری دنیا پر چھا جائے گا۔ تجزیہ کیا جائے تو امریکا چین کے حوالے سے ایک نئی سرد جنگ ایجاد کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یورپ کے کئی ملک چین کے سلسلے میں امریکا کے بیانیے سے اتفاق نہیں رکھتے مگر امریکا انہیں مسلسل چین کے خوف میں مبتلا کرکے ایک بار پھر یورپ کو اپنے اسلحے کی منڈی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
اسرائیل کی طاقت کی پشت پر بھی امریکا ہے۔ برطانیہ اور امریکا نے اسرائیل کی صورت میں ایک خنجر مشرق وسطیٰ کے سینے میں گھونپا اور امریکا پچاس سال سے اسرائیل کی معیشت اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اسے سالانہ تین ارب ڈالر کی امداد مہیا کررہا ہے۔ امریکا نے پچاس سال سے پورے مشرق وسطیٰ کو اسرائیل کے خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ اس عرصے میں امریکا نے کھربوں روپے کا اسلحہ عرب ریاستوں کو فروخت کیا ہوا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکا نے کبھی بھی پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا نہیں کیا۔ امریکا چاہتا تو مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کبھی کا حل ہوچکا ہوتا۔ 1962ء میں چین بھارت جنگ کے موقع پر پاکستان چاہتا تو چند ہزار فوجیوں کے ساتھ بھارت سے اپنا کشمیر چھین سکتا تھا اس لیے کہ بھارت اپنی ساری فوج چین کی سرحد پر لے گیا تھا۔ چین نے پاکستان کو اُکسایا بھی کہ موقع سے فائدہ اُٹھائو مگر امریکا نے جنرل ایوب کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس تناظر میں یہ حقیقت راز نہیں کہ بھارت کے خوف کی وجہ سے امریکا نے پاکستان کو پچاس سال میں اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔
کہنے کو امریکا ایران کا دشمن ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایران کو اعتماد میں لیے بغیر امریکا عراق پر حملہ اور قبضہ نہیں کرسکتا تھا۔ امریکا نے عراق میں صدام حسین کو گراکر پورا عراق عملاً ایران کے حوالے کردیا۔ اسی طرح امریکا نے عرب ریاستوں کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایران کے خوف میں بھی مبتلا کردیا۔ اس خطرے کی آڑ میں بھی امریکا نے سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ امریکا نہ صرف یہ کہ دنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرتا ہے بلکہ سو سے زیادہ ملکوں میں اس کے فوجی اڈے ہیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے حکمرانوں سے کہا تھا کہ ہم تمہارا دفاع کرتے ہیں۔ ہم تمہارا دفاع نہ کریں تو تمہارے عوام چند دن میں تمہارا تختہ اُلٹ دیں۔ چناں چہ تم ہمیں دفاع کی قیمت ادا کرو۔
یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ امریکا نے کئی جنگیں خود ایجاد کیں۔ ویت نام کی جنگ امریکا کی ایجاد کی ہوئی تھی اس جنگ میں دس سے پندرہ لاکھ ویت نامی مارے گئے۔ کوریا کی جنگ میں 30 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ امریکا نے کہا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ امریکا نے یہ کہا اور عراق پر حملہ کردیا۔ حالاں کہ عراق سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار برآمد نہ ہوسکے۔ امریکا نے نائن الیون کے بعد افغانستان کے خلاف بھی جارحیت خود ہی ایجاد کی ورنہ امریکا کے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا کہ طالبان کی حکومت نائن الیون کے حملوں میں ملوث ہے۔ عراق کی جنگ میں امریکا نے پانچ سال میں 6 لاکھ عراقی مارے۔ افغانستان کی 19 سالہ جنگ میں امریکا نے 2 لاکھ سے زیادہ افغانیوں کو شہید کیا۔
امریکا صرف اسلحے اور جنگوں کے ذریعے ہی بدمعاشی نہیں کرتا، امریکی رہنمائوں کی زبان بھی ہمیشہ بدمعاشی اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی اہلکاروں نے جنرل پرویز مشرف کو دھمکی دی تھی کہ ہمارا کہا مانو ورنہ ہم پاکستان کو پتھروں کے دور میں داخل کردیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال پہلے ہی شمالی کوریا کو ایٹمی حملے کی دھمکی دی اور کہا کہ ہم تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو بھی ایٹمی حملے سے ڈرایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہیں تو افغانستان کو دس دن میں سبق سکھا سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے الفاظ یہ نہیں تھے مگر ان کے بیان کا مفہوم یہی تھا۔ ظاہر ہے دس دن میں کسی ملک کو صرف ایٹمی حملے کے ذریعے ہی فتح کیا جاسکتا ہے۔
ابھی حال ہی میں امریکا کے سابق صدر نکسن اور ہینری کسنجر کی نجی گفتگو سامنے آئی۔ یہ گفتگو ہندوستانی خواتین اور پاکستانیوں سے متعلق ہے۔ ذرا دیکھیے تو صدر نکسن اور ہینری کسنجر کی گفتگو بدمعاشی سے کتنی لبریز ہے۔
’’امریکا کے صدر نکسن نے کہا۔ بلاشبہ دنیا کی سب سے زیادہ بے کشش خواتین ہندوستانی خواتین ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں سیاہ فام افریقیوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ارے بھائی افریقیوں میں ایک حیوانی کشش تو ہوتی ہے لیکن اے خدا ہندوستانی خواتین اکھ… کم ذات… اکھ۔ یہ خواتین مجھے بور کردیتی ہیں۔ یہ نفرت انگیز ہیں اور ان کے ساتھ سخت رویہ رکھنا آسان ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان کے ہاں بچے کیسے پیدا ہوجاتے ہیں۔
ہینری کسنجر!۔ یہ ہندوستانی کمال کے چاپلوس ہوتے ہیں۔ صدر صاحب یہ چاپلوسی کے ماہر ہیں۔ انہیں چالاکی کے ساتھ چاپلوسی کرنا آتی ہے۔ انہوں نے اس طرح 600 سال سے خود کو بچا کر رکھا ہے۔ یہ ذلت کے ساتھ خوشامد کرتے ہیں۔ پاکستانی ٹھیک لوگ ہیں لیکن ان کے ذہن دقیانوسی ہیں۔ ان میں ہندوستانیوں جیسی لطافت نہیں ہے۔
(روزنامہ ڈان 9 ستمبر 2020ء صفحہ6)
جیسا کہ ظاہر ہے یہ نکسن اور کسنجر کی نجی گفتگو ہے۔ لیکن یہ گفتگو کتنی شرمناک ہے۔ ایسا لگ رہا ہے دو لفنگے بیٹھے ہوئے آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ ان دونوں کا نہ صرف یہ کہ تصور عورت پست ہے بلکہ انہیں ہندوستانیوں اور پاکستانیوں سے دلی نفرت ہے۔ یہ ہے اصل امریکا۔ یہ ہے امریکا کا باطن۔ اب آپ کو معلوم ہوا امریکا بدمعاش ریاست کیوں ہے؟۔