لے پالک

270

ایک ٹی وی اینکر جو ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلتے ہیں اپنی بے باکی اور جرأت مندانہ تبصروں کی وجہ سے بہت مقبول ہیں۔ من حیث القوم ہم جنگ جو ہیں اور یہ ہماری فطرت میں شامل ہے۔ موصوف نے اپنے ایک پروگرام میں کہا ہے کہ اگلے پانچ سال بھی تحریک انصاف کو مل جائیں گے۔ کیونکہ مقتدر قوتوں کو دوسرا عمران خان نہیں مل رہا ہے۔ یہ ایسی بات تھی جِسے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنما کسی صورت برادشت نہیں کرسکتے۔ سو، انہوں نے اس انکشاف نما بیان پر سخت احتجاج کیا مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ کمان سے نکلا ہو ا تیر گھونسلے سے گرے ہوئے بچے کی طرح ہوتا ہے۔ سنا ہے پرندوں کا بچہ اگر اپنی لاپروائی کی وجہ سے گھونسلے سے گر جائے تو گھونسلے میں واپس جانا ممکن نہیں ہوتا۔ خیر جانے دیجیے اس قصے کو ہاں تو ہم بتا رہے تھے کہ ٹی وی اینکر کی رائے کے مطابق عمران خان کو اگلے پانچ سال بھی مل سکتے ہیں۔ سیاست امکانات کے دائرے میں گھومتی رہتی ہے اور کسی امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
یاداشت بخیر جب عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی مسند پر براجمان کیا گیا تو ہم نے انہی کالموں میں کہا تھا کہ وزارتِ عظمیٰ دارصل ایک آزمائش ہے۔ اگر عمران خان اس آزمائش میں کامیاب ہوگئے تو ممکن ہے اگلے پانچ سال بھی عمران خان کی کٹ پر ایشو کردیے جائیں گے۔ بصورت دیگر قومی حکومت کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔ وطن عزیز کی سیاست سے دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص اس رائے کو مسترد نہیں کرسکتا۔ اس حقیقت سے انکار حالات و واقعات سے چشم پوشی کے سوا کچھ نہیں کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی جمہوریت کا ورد کرتے ہوئے برسر اقتدار آتے رہے ہیں۔ مگر جمہوریت کی جڑوں میں خود غرضی کے چونے کا پانی ڈالتے رہے ہیں۔ شاید ہمارا سب سے بڑا قومی المیہ یہی ہے کہ ہمارے قول وفعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ راگ جمہوریت کا الاپتے ہیں مگر سیاسی ڈفلی پر اپنے گن گاتے ہیں۔
حکمرانوں کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے انہیں اس حقیقت کا ادراک ہی نہیں کہ حکمران اور ان کے ہم نوا اچھی حکمرانی کے بارے اپنی خارجہ اور داخلی پالیسی کے بارے میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے مگر عوام ملک کی خوشحالی اور حکمرانوں کے طرز حکمرانی کا موازنہ اپنی معاشی حالت سے کرتے ہیں اگر ان کی معاشی حالت بہتر ہے تو ملک کی معیشت بھی بہتر سمجھی جاتی ہے۔ کہتے ہیں مغل اعظم اکبر بادشاہ رات کو بیربل یا ملا دوپیازے کے ساتھ بھیس بدل کر رات کو عوام کے حالات اور اپنی بادشاہت کے بارے میں معلومات حاصل کیا کرتا تھا۔ ایک رات کا واقعہ ہے کہ مغل اعظم نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی گھر کے باہر چارپائی ڈالے حقہ پی رہا ہے۔ اکبر بادشاہ نے اس شخص سے پوچھا تمہارا بادشاہ کیسا ہے رعایا کے ساتھ اس کا سلوک کیسا ہے۔ اس شخص نے کہا اللہ ہمارے بادشاہ کی عمر دراز کرے ہر طرف امن و امان ہے رعایا بہت خوشحال ہے یہ سن کر اکبر بادشاہ بہت خوش ہوا اور آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور جاکر بیر بل سے کہا دیکھا ہمارا طرز حکمرانی رعایا ہم سے کتنی خوش ہے ہر شخص ہمارے لیے دعاگو ہے۔
کچھ دن کے بعد اکبر بادشاہ کا گزر اس شخص کے گھر کے پاس سے ہوا اس نے اسی شخص سے پوچھا بادشاہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ یہ سنتے ہی وہ شخص چراغ پا ہوگیا کہنے لگا خدا غارت کرے بادشاہ کو اس نے تو جینا حرام کردیا ہے ہرطرف لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔ جو چاہتا ہے غریب آدمی کو لوٹ لیتا ہے اکبر بادشاہ یہ سن کر بہت حیران ہوا اور خاموشی سے آگے بڑھ گیا کچھ دور جاکر اس نے بیربل سے کہا پہلے تو یہ ہماری درازی عمر کے لیے دعا گو تھا اور اب ہماری موت کا خواہش مند ہے چند دنوں میں آخر ایسا کیا ہوا جس نے اس شخص کو ہم سے بد گمان کردیا۔ بیربل نے ایک تھیلی دکھاتے ہوئے کہا بادشاہ سلامت چند دن پہلے یہ تھیلی اور اس کے اندر موجود بیس اشرفیاں اس شخص کی ملکیت تھی۔ اس لیے بادشاہ سے بہت خوش تھا اور درازی عمر کے لیے دعا گو بھی تھا مگر میں نے یہ تھیلی چوری کرالی اس لیے اسے ہر طرف لوٹ مار دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی نظر میں اس کی تھیلی کی چوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بادشاہ ملک کے حالات سے بے خبر ہے۔ عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ خزانہ بھرا ہوا ہے یا خالی ہے۔ فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات کیسے ہیں یہ عوام اس معاملے میں نہیں الجھتے۔ مہنگائی آمدنی سے بڑھ جائے تو عوام حکمرانوں کو اپنا نمائندہ نہیں فوج کے لیے پالک سمجھتے ہیں۔