اکثریت کی شکست

467

پاکستان میں عوام کے نام پرعوامی سیاست نہیں ہوتی ۔ لیکن اس کا سبب اور ذمے دار کون ہے ۔اس معاملے پر اب زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی اب تو ہر چیز سیاہ و سفید کی طرح سامنے آتی جا رہی ہے ۔ مختلف آئینی ترامیم کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن کی ملی بھگت بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے ۔ اسی طرح سندھ میں کراچی کے ٹھیکیدار متحدہ قومی موومنٹ والے اسمبلیوں میں بیٹھے رہتے اور کراچی کے خلاف فیصلے ہوتے رہتے تھے ۔ اکثر اپوزیشن واک آئوٹ کر جاتی ہے اس سے قبل خوب شور شرابا کیا جاتا ہے تاکہ اخبارات میں ان کے لوگوں کی تصویریں اور بیانات آجائیں کہ دیکھیں ہم نے تو احتجاج کیا تھا ۔ اور عوام مان بھی لیتے ہیں ۔لیکن یہ سلسلہ کب تک چلے گا ۔ اس کا سب سے بڑا سبب تو یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کہیں سے فوائد سمیٹ چکے ہوتے ہیں اور دبائو میں رہتے ہیں ۔ اب تو ججز دبائو میں رہتے ہیں تو سیاست دانوں کا کیا کہنا، تازہ وار دات بھی یہی ہوئی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف سے متعلق آئینی ترامیم قومی اسمبلی سے منظور ہو چکی تھیں اور سینیٹ نے انہیں مسترد کر دیا تھا اس کو منظور کرانے کا طریقہ حکومت نے یہ نکالا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ۔ مشترکہ اجلاس میں بھی عددی بر تری اپوزیشن کو حاصل تھی لیکن ساری دنیا نے جادو چلتے دیکھا کہ اپوزیشن اکثریت کے باوجود بل کی منظوری نہ رکوا سکی ۔ جن لوگوں کی جانب سے گڑ بڑ کا خدشہ تھا وہ غائب کر دیے گئے ۔ غائب ان معنوں میں کہ اپوزیشن کے36 ارکان پارلیمنٹ اجلاس سے غیر حاضر ہو گئے اور حکومت کے بھی16 ارکان نہیں آئے ۔ کچھ کے عذر درست اور حقیقی ہوں گے اور کچھ یوں ہی چھانگا مانگا کی سیر کو چلے گئے ہوں گے ۔ اب اخبارات اور ٹی وی پر اپوزیشن کا شور مچے گا سرکار کا جواب چلے گا اور اصل مسئلہ غائب ۔ چنانچہ ڈھول بجنا شروع ہو گا ۔ بلاول اور شہباز نے بڑھ چڑھ کر بات کی ہے ، شہباز شریف نے کہا کہ گنتی میں ہیرا پھیری ہوئی ہے ۔ اسپیکر نے ریڈ لائن عبور کر لی ان کے متعلق جلد فیصلہ کریں گے ۔گنتی میں ہیرا پھیری تو بعد میں ہوئی ہوگی واک آئوٹ نے سارے بل منظور کرا دیے۔ جبکہ بلاول زرداری کہتے ہیں کہ اتنا غیر جمہوری رویہ کبھی نہیں دیکھا۔ظاہر ہے انہوں نے اپنے نانا کا دور تو دیکھا ہی نہیں اور والدہ کے ادوار میں بھی یہاں نہیں تھے تو غیر جمہوری رویہ کیسے دیکھتے؟ اب بات اس پر ہو رہی ہے کہ فلاں کوبولنے دیا گیا فلاں کو نہیں ۔ فلاں تحریک پیش کر سکتا ہے یا نہیں ، مشیر کیاکر سکتا ہے اور کیا نہیں ۔ اسپیکر نے غلط کیا یا صحیح ۔ لیکن پارلیمنٹ کے یہ اراکین بتائیں کہ اکثریت کو شکست کیسے ہو گئی ۔ اپوزیشن کے36 ارکان کہاں تھے ۔ کیا اسی دن کے لیے انہیں ووٹ دیے گئے تھے کہ جب عوام کا مسئلہ آئے تو وہ غائب ہو جائیں ۔ سرکار کو اپنے16اراکین کے بارے میں معلوم ہی ہو گا کہ وہ کیوں نہیں آئے لیکن عوام ان کے بارے میں بھی جاننا چاہیں گے کہ وہ اہم قانون سازی کے وقت کہاں تھے ۔ یہ بات کہنا بھی غلط ہے کہ گنتی میں ہیرا پھیری ہوئی ہے ۔ تمام اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ اپوزیشن کو واضح بر تری حاصل ہے ۔ عین وقت پر اراکین کا غائب ہونا یہ بتا رہا ہے کہ عوام کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ان ارکان اور ظاہری طور پر اپوزیشن پارٹیوں کے بارے میںجماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد خان نے کھل کر بات کی ہے اور سب کچھ بتا دیا ہے ۔ انہوں نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پہلے بھی سینیٹ کے فلور پر کھل کر بات کی تھی اور پاکستانی پارلیمنٹیرینز کے رویے اور اعداد و شمار کے بارے میں بتایا تھا کہ انہوں نے اب تک کتنے قوانین ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر منظور کیے ہیں اورکتنے دوسری قوتوں کے لیے ۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف ام الخبائث ہے عوام کے بجائے استعمار کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے ظاہری طور پر اپوزیشن ہونے کی دعویدار پارٹیوں کے نام لے کر کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خفیہ مشاورت بندکریں ۔ یہ بات یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اکثریت کیوں شکست کھا گئی۔پاکستان میں اکثریت پہلی مرتبہ شکست سے دوچار نہیں ہوئی ہے۔ سب سے پہلی بڑی شکست اکثریت کو 1970ء میں ایسے ہی ہتھکنڈوں کے ذریعے دی گئی تھی۔ جب مشرقی پاکستان کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا گیا اور مغربی پاکستان کی ’’دوسری‘‘ اکثریتی پارٹی (نئی اصطلاح) کو اقتدار سونپ دیا گیا نتیجہ! ملک ٹوٹ گیا پھر تو جب بھی انتخابات ہوئے اکثریت کو شکست ہوئی۔ بھٹو صاحب نے 1977ء میں انتخابات کرائے ملک کی اکثریت منہ دیکھتی رہ گئی۔ ووٹ ڈال کر بھی شکست سے دوچار ہوئی۔ پھر جنرل ضیا الحق آگئے اور ساری اکثریت روند دی گئی۔ 1988ء، 1990ء، 1993ء اور 1996ء سارے انتخابات ایسے ہی ہوئے پھر جنرل پرویز نے اکثریت کو روندا اور آٹھ برس سے زیادہ روندتے رہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ 2008ء کے انتخابات میں اکثریت جیتی تھی!! نہیں۔ اس وقت تو اکثریت نے ووٹ ہی نہیں ڈالے۔ رفتہ رفتہ انتخابی نظام پر اکثریت کا اعتماد ہی اٹھتا جا رہا ہے۔ جس ملک میں شور شرابے اور میڈیا ہنگاموں کے ذریعہ پارٹی بڑی اور چھوٹی کی جاتی ہو۔ جعلی لیڈر بنائے جاتے ہوں اور اصل لیڈروں کو غائب کیا جاتا ہو۔ ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو بنایا جاتا ہو وہاں اکثریت کیسے جیت سکتی ہے۔ سب سے بڑا ڈراما تو 2018ء کے انتخابات میں ہوا جب اقلیت کو اکثریت بنا دیا گیا۔ 36 گھنٹے تک نتیجہ روک کر رکھا گیا تاکہ گنتی پوری کی جا سکے اور پھر اکثریت ہار گئی۔ اب جو اکثریت ہے وہ بھی اقلیت بن گئی ہے اور جو اپوزیشن ہے اس نے ثابت کیا کہ وہ اقلیت ہی ہے۔ حکمراں جماعت کو بھی اپنی اکثریت کا پتا ہے۔ چند بٹے دوسرے پلڑے میں ڈالتے ہی وہ اکثریت سے محروم ہو جائے گی۔ اب عوام کا کام ہے کہ ان 52 ارکان اسمبلی کو تلاش کرکے اپنے اپنے حلقوں میں ان سے سوال کریں کہ کہاں گئے تھے۔ جب تک عوام یہ کام نہیں کریں گے۔ پارلیمانی جمہوریت اور اقلیت و اکثریت کا ڈراما جاری رہے گا۔