غزہ سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش ،13 یہودی زخمی

217
غزہ: اسرائیلی فوج کی بم باری کے نتیجے میں شعلے اور دھواں اٹھ رہا ہے‘ صہیونی پولیس اہلکار فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملوں سے پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے اور راکٹوں کا ملبہ اٹھا رہے ہیں

غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین کے محصور علاقے غزہ سے مزاحمت کاروں نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی، جس کے نتیجے میں 13 صہیونی زخمی ہوگئے۔ یہ میزائل منگل کی شام ایک ایسے وقت میں داغے گئے جب متحدہ عرب امارات اور بحرین امریکا میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر رہے تھے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اعتراف کیا گیا کہ حماس کے زیر انتظام غزہ سے اسرائیل پر راکٹ داغے گئے۔ یہ راکٹ عسقلان اور اشدود جیسے بندرگاہی شہروں میں یہودی آبادیوں پر گرے۔ ان کے نتیجے میں یہود کے مکانات اور املاک کو نقصان پہنچا، جب کہ اسرائیلی حکام نے انتباہی سائرن بجا کر مزید خوف وہراس پھیلا دیا۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق زخمی ہونے والے یہودی آبادکاروں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے۔ تا حال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ خیال رہے کہ چند ہفتے تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان غزہ میں جاری رہنے والی کشیدگی کے دوران اسرائیلی علاقوں پر گیس بھرے آتش گیر غبارے چھوڑے جاتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سرحد پر سخت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی، تاہم رواں ماہ قطر کی کوششوں سے غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔ پھر خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے باعث غزہ کی سرحد پر دوبارہ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نکولائی میلادینوف نے بدھ کے روز غزہ کا دورہ کیا۔ وہ شمال میں بیت حانون سرحدی گزرگاہ سے غزہ میں داخل ہوئے۔ فلسطینی بارڈر اینڈ کراسنگ اتھارٹی نے بتایا کہ ملادینوف اور ان کے وفد بیت حانون گزرگاہ سے غزہ پہنچا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے عہدے دار کا یہ دورہ اقوام متحدہ کی کوششوں اور جنگ بندی معاہدے کو مستحکم کرنے کے لیے ثالثی طور پر سامنے آیا ہے، جو حال ہی میں طے پایا تھا۔