اسرائیلی فوج کی تعلیم دشمنی، فلسطینی بچوں سے میز، کرسیاں چھین لیں

211

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں واقع اسکول کی کرسیاں، میز اور شیلٹرز ضبط کر کے فلسطینی بچوں کو تپتی دھوپ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کردیا۔

یروشلم کی ایک فلاحی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق نئے تعلیمی سال کو شروع ہوئے ابھی چار روز ہی گزرے تھے کہ اسرائیلی فوج نے تعلیمی عمل کو متاثر کردیا۔

رپورٹ کے مطابق 3 ستمبر کو اسرائیلی فوج نے اسکول میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ غاصب اسرائیلی فوج نے اسکول میں موجود 30 کرسیاں، 12 میز اور چھاؤں کے لیے لگائے گئے شیلٹر ضبط کرلیے۔ اسکول کی تعمیر کے لیے موجود اینٹوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

فلاحی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں بہت دشواریوں کا سامنا ہے۔ غاصب فوج فلسطینی بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے لیے مزید اسکول تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی بچوں کے لیے بہت سے کھیلوں کے میدانوں کو اسکول قرار دیا گیا ہے جہاں بچے تپتی دھوپ میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

طویل عرصے سے غاصب اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے اسکولوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ 2014 میں غزہ پر بمباری کے دوران اسرائیلی فوج نے 24 اسکولوں کو تباہ کردیا تھا۔ بمباری میں 15 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔