احتساب کا موجودہ عمل فوجی آمروں کی دین

437

پاکستان میں احتساب کا موجودہ عمل شروع ہی سے فوجی آمروں کے زمانے میں انتقامی مقاصد اور سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنے کے لیے اختیار کیا گیا تھا۔ اس کا آغاز ملک میں فوجی آمریت کے پہلے دور میں ایوب خان نے کیا تھا جو پرویز مشرف کے دور تک جاری رہا اور موجودہ حکمران اس کی باقیات کو سینہ سے چمٹائے ہوئے ہیں اور اس سے اپنے مقاصد حاصل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 1958میں ایوب خان نے اقتدار پر شب خون مارنے کے فوراً بعد سیاسی جماعتوں پر پابندی عاید کرنے کے ساتھ سیاست دانوں کو نااہل قرار دینے کے لیے ایبڈو کا قانون نافذ کیا تھا، جس کا نشانہ سندھ میں فوجی آمریت اور ایک یونٹ کے تسلط کے مخالفین تھے۔ ایبڈو کی تلوار سب سے پہلے پیر زادہ عبدالستار اور ایوب کھوڑو پر گری۔ اس دوران سندھ میں گرفتاریوں کا ایسا طوفان تھا کہ پورا صوبہ لرز اٹھا تھا۔ سندھ کے بعد مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے رہنمائوں حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب الرحمن کو ایبڈو کا نشانہ بنایا گیا۔ پھر ایوب کے دور میں احتساب کے عمل کو سیاسی مخالفین کے خاتمے کے ساتھ بنیادی جمہورتیوں کے عجوبہ نظام کو مسلط کرنے کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کے نظام کو تہہ تیغ کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ بظاہر دو دہاری تلوار کا وار تھا لیکن عوام میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکامی کی بنا پر کند ثابت ہوا۔ یہی کوشش جنرل ضیا الحق کے دور میں، تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عاید کرنے کے بعد غیر سیاسی بنیاد پر عام انتخابات کے انعقاد اور پارلیمنٹ کی جگہ شوریٰ قائم کرنے کی گئی اس اقدام کا بھی بنیادی مقصد احتساب تھا جس کے عمل کے ذریعہ شوریٰ میں اراکین کو نامزد کیا گیا تھا۔ پرویز مشرف کے دور میں نیب کو کھلم کھلا اپنے فوجی اقتدار کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں پر دبائو ڈال کر فوجی حکومت کی حمایت حاصل کی گئی۔ اسی زمانے میں نیب کا ادارہ، عوام میں اپنا اعتماد کھو بیٹھا تھا۔
مشرف کے دور کے بعد جتنی بھی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں برسر اقتدار آئیں کسی نے فوجی حکمرانوں کی ان باقیات کو ختم کرنے یا اس میں اصلاح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس بے عملی کے پیچھے یہ خواہش تھی کہ جب وہ حکومت میں آئیں گے تو اس ادارے سے مستفید ہو سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں نیب کا ادارہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے جسے مفاد پرست حکمران بدستور جاری رکھنا چاہتے ہیں اور اسے سیاست دانوں پر مسلط رکھنا چاہتے ہیں۔ کرپشن کی تفتیش اور اس کے خاتمے کے لیے دنیا کے دوسرے ملکوں میں جو طریقہ اختیار کیا گیا، سمجھ میں نہیں آتا اس سے پاکستان میں گریز کیوں کیا جاتا ہے۔ ہر ملک میں کرپشن کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط ادارہ قائم ہے۔ پڑوس ہندوستان میں CBI ہے، امریکا میں FBI ہے برطانیہ میں ACU اینٹی کرپشن یونٹ ہے ان کے سربراہ صدر یا وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں۔ پاکستان میں نیب کے سربراہ کے تقرر کا منفرد اور مضحکہ خیز طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ حکومت اور حزب مخالف کے قائد مل کر نیب کا سربراہ منتخب کرتے ہیں جس میں ایک تو بہت دیر لگتی ہے اور بے شمار الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس انتخاب کو غیر جانبدار کسی صورت میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کی جگہ وزیر اعظم یا صدر اعلیٰ افسروں کی کمیٹی کی سفارش پر کسی تجربہ کار اور ایماندار افسر کو سربراہ کیوں نہیں مقرر کر سکتا۔ پاکستان میں ایسے تجربہ کار اور ایماندار افسروں کی کمی نہیں جن کو احتساب کے ادارے کی سربراہی سونپی جاسکے۔
بلا شبہ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوجی حکمرانوں کے قائم کردہ ادارے نیب سے نجات حاصل کی جائے۔ کس قدر بے وقوفی کی بات ہے کہ اگر کوئی نیب کے موجودہ ادارے میں اصلاح کی بات کرتا ہے تو اس پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے NRO کی خواہش کار فرما ہے۔ یہ دراصل اصلاح کے لیے با مقصد گفتگو اور بحث سے رو گردانی کا اظہار ہے۔ جمہوری ملکوں میں یہ دیکھ کر واقعی تعجب ہوتا ہے کہ وہاں ہر مسئلہ پر مختلف سطحوں پر اور مختلف زاویوں سے کتنا غور و خوص اور بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب میں نے برٹش لائبریری میں برصغیر کی آزادی اور انتقال اقتدار کے بارے میں پرانی تاریخی فائلوں کا مطالعہ کیا۔ ہر فیصلہ سے پہلے ہر ایک نکتہ کے تمام پہلووں پر بڑی تفصیل سے بحث ہوتی تھی اور صرف لندن ہی میں نہیں بلکہ ہندوستان میں گورنر جنرل سے لے کر ہر صوبہ کے گورنر سے صلاح مشورہ ہوتا تھا۔ پھر گورنر جنرل اپنے عملے اور سیاسی رہنمائوں سے ایک ایک نکتہ پر مشورہ کرتے تھے۔ اس قدر طویل صلاح مشورہ کا یہ سلسلہ جاری رہتا تھا کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہ فیصلہ نہ کر پائیں گے۔ کاش کہ پاکستان میں سیاست دان گہرائی میں جا کر گفتگو اور صلاح مشورہ کا طریقہ اختیار کریں۔حقیقت یہ ہے کہ نیب کے متنازع ادارہ پر سیاست دانوں کے علاوہ عدالتوں کو بھی اعتماد نہیں رہا ہے لہٰذا اس صورت میں اس ادارے کو بغیر اصلاح کے یوں ہی برقرار رکھنا سیاسی ظلم ہوگا۔