لاہور موٹر وے واقعہ میں ایک اور ملزم گرفتار

639

لاہور گجرپورہ موٹروے زیادتی کیس میں پولیس نے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا.

لاہورگجر پورہ موٹروے پر خاتون زیادتی کیس میں پولیس نے ایک اور ملزم اقبال عرف بالا مستری کو بھی گرفتار کرلیا ہے.

پولیس کے مطابق ملزم واردات کے روزراستے سے واپس چلا گیا تھا.

اقبال عرف بالامستری لاہور موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کے ساتھ متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے اور پولیس نے بالامستری کوملزم وقار اورعباس کی نشاندہی پرحراست میں لیا.

یاد رہے کہ لاہور موٹروے واقعے میں ملوث افراد کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ملزم وقارلحسن نے پولیس کو گرفتاری دے دی اور ملزم کے انکشافات پر وقارلحسن کے سالے عباس نے بھی گزشتہ روز گرفتاری دے دی تھی تاہم دونوں ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شفقت نامی شخص کو گرفتار کرلیا اور ملزم شفقت نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم کرلیا.

پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں ملزم شفقت نے بتایا کہ موٹروے پر واردات کے بعد ایک رات قلعہ ستار شاہ میں قیام کیا، اگلے روز میں دیپالپور اور عابد علی مانگا منڈی اپنے والد کے پاس چلا گیا۔ ملزم شفقت نے بتایا کہ عابد نے واردات کرنے کے لیے مجھے اور ایک تیسرے ملزم بالا مستری کو لاہور بلایا ہم تینوں واردات کرنے نکلے لیکن بالا مستری راستے سے واپس چلا گیا، میں نے اور عابد علی نے ڈکیتی اور خاتون کے ساتھ زیادتی کی.

ملزم شفقت نے بیان میں بتایا کہ ملزم عابد کے ساتھ ایک ماہ قبل بھی شیخوپورہ میں خاتون سے زیادتی کی کوشش کی تھی لیکن پولیس کے پہنچنے پر زیادتی کیے بغیر فرار ہو گئے، ملزم شفقت نے کہا کہ میرا عابد علی سے آخری بار 3روز قبل رابطہ ہوا تھا۔

دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ اور مرکزی ملزم عابد علی مل کر 11وارداتیں کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ شفقت کو پنجاب پولیس نے گزشتہ روز دیپالپور سے گرفتار کیا تھا، ملزم کی نشاندہی ملزم وقار الحسن اور عباس نے کی تھی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔ اس کی حتمی رپورٹ جلد اعلی حکام کو بھیجی جائے گی جبکہ مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔