عرب اسرائیل معاہدے پر دستخط آج امریکا میں ہونگے

211

واشنگٹن: اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے مابین باقائدہ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر(آج) 15 ستمبر کو واشنگٹن میں ہونگے۔

اسرائیلی خبررساں ادارے چینل 12 کی خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، ابوظہبی کے ولی عہد پرنس محمد بن زید النہیان اور عبدالطیف بن راشد شرکت کریں گے۔

دوسری جانب ٹائمز آف اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے گزشتہ بتایا کہ  کورونا وائرس کے باعث وائٹ ہاؤس پر دستخط کرنے کی تقریب میں مدعو کیے گئے مہمانوں کو ماسک پہننے اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنے کی ترغیب دی جائے گی تاہم چہرے کی پردہ پوشی کی ضرورت نہیں ہوگی۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ  اسرائیل سمیت دو عرب ممالک کے درمیان معاہدوں پر دستخط کی تقریب وائٹ ہاؤس ساؤتھ لان میں ہوگی۔

یاد رہے کہ  امریکا اور اسرائیل نے عرب لیگ کے 22 ممالک کو ہدف بنایا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ باقائدہ سفارتی تعلقات قائم کریں  تاہم یواے ای، بحرین کے صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے پر  سخت عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔

اسرائیل یواے ای معاہدہ، تعلقات بحالی پر دستخط امریکا میں

واشنگٹن: اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے پر 22 ستمبر کو امریکی دارالحکومت  میں تقریب کے دوران باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔

اسرائیلی خبررساں ادارے چینل 12 کی خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن ہاہو اور ابوظہبی کے ولی عہد پرنس محمد بن زید النہیان شرکت کریں گے۔

UAE-Israel pact to be signed on Sept. 22: Report

اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق عرب لیگ کے دیگر ممالک کو بھی اسرائیل تسلیم کرانے کے بعد اس تقریب میں شرکت کرانا تھی  لیکن خلیجی ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے عوامی دباؤ پر حکمران ناکام رہے۔

دوسری جانب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سن 1993 میں اسرائیل اورفلسطین کے مابین طے پانے والےاوسلو معاہدے کی سالانہ یاد یعنی 13 ستمبر کو معاہدے پر دستخط کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

عرب لیگ کے ممالک اسرائیل سے تعلقات کیلیے پلکیں بچھانے لگے

یروشلم: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے دو عرب ریاستوں کے مابین سفارتی تعلقات معمول آنے کے بعد اسرائیل اور مراکش کے درمیان براہ راست پروازیں جلد شروع ہوسکتی ہیں۔

اسرائیلی ٹی وی این 12 نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ دونوں ممالک میں فضائی راستہ بحال ہونا مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی جانب اہم قدم ہوگا، جس کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کوشاں ہیں ۔

دوسری جانب تل ابیب میں اسرائیل کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس خبر کی ’نہ تو تصدیق اور نہ ہی تبصرہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 20 سال قبل دوسری فلسطينی’ انتفادہ’ شروع ہونے کے بعد مراکش نے اسرائیل کے ساتھ یہ رابطے ختم کر دیے تھے، اس کے باوجود خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خفیہ رابطے رہے ہیں اور دونوں ملک تجارت و دفاع سمیت کئی معاملات پر تعاون بھی کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل یواے ای اوربحرین کے اسرائیل کے کیساتھ تعلقات کی بحالی پر معاہدے کی بھی حمایت کی تھی۔

اسرائیلی ٹی وی رپورٹ میں کہناہے کہ تل ابیب کو امید ہے کہ عمان بھی جلد اسرائیل کے ساتھ تعلقات استور کر لے گا۔