اسلامی بینکاری کیلیے سنجیحدہ کوشش ہورہی ہیں،عارف علوی

58
اسلام آباد، صدر عارف علوی اسلامک بینکنگ کی ایوارڈ تقریب سے خطاب کررہے ہیں

اسلام آباد( آ ن لائن )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے نظام کے فروغ کیلیے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا، صرف منافع کمانا ہی ترجیح نہیں ہونا چاہیے، ایلیٹ ازم(خواص کی حکمرانی کے دستور پر اعتقاد)معاشروں کو گھن کی طرح کھا رہا ہے، اسلام میں ایلیٹ ازم کا تصور نہیں ہے۔ کووڈ19 مالیاتی منڈیوں کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صرف لین دین پر نہیں بلکہ صلہ رحمی پر ہے، خواتین اور کمزور طبقات کے لیے بینکنگ اور فنانسنگ کی سہولیات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے پیر کو10ویںگلوبل اسلامک فنانس ایوارڈز کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ اس تقریب کا انعقاد خوش آئند ہے اس کے ذریعے اسلامک فنانسنگ کے شعبہ میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام کو وسعت مل رہی ہے۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری کے نظام کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ پاکتسان میں 17فیصد بینکاری اسلامی قوانین کے مطابق ہو رہی ہے، اسلامک فنانسنگ کا حصہ گلوبل فنانسنگ میں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور دیگر ادارے اسلامی بینکاری کو ترقی دینے کے لیے کوشاں ہیں۔عوام میں بھی اس حوالے سے کافی آگاہی پائی جاتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامک فنانسنگ کے شعبے میں کافی کام کیا گیا ہے لیکن یہ ایک وسیع شعبہ ہے جس میں بہتری لانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 کی صورت میں بینکاری نظام کے اوپر بہت دبائو آیا اور مالیاتی منڈیوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ صرف لین دین اسلامک فنانسنگ کی بنیاد نہیں بلکہ اسلامک فنانسنگ کی بنیاد صلہ رحمی پر ہے۔حکومت کے احساس پروگرام کی بنیاد بھی اسی پر رکھی گئی ہے۔ اسلام ایک ایسے معاشرے اور مالیاتی نظام کا خواہاں ہے جہاں معاشرتی انصاف، مساوات، برابری اور شفافیت موجود ہو ۔ سماجی اور معاشی ترقی کے لیے دولت کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ کاروبار ی سرگرمیوں میںمنافع کے ساتھ اخلاقیات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کسی بھی شعبے میں استحصال کی اجازت نہیں دیتا ۔اسلامی معاشرے میں ایلیٹ ازم بڑھنے کا کوئی تصور نہیں۔ ایلیٹ ازم معاشروں کو گھن کی طرح کھا رہا ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اس کا شکار ہے۔ اسلام کی آمد نے عرب کے ایلیٹ کلچر کو چیلنج کیا اور انسانوں کی برابری کا تصور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام معاملات کو ہمدردی سے چلانے اور کمزروں کا خیال رکھنے کی ضرورت پر دیتا ہے۔ خواتین اور کمزور طبقات کے لیے بینکنگ سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔ بالخصوص ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعے بھی انہیں مستفید کیا جائے۔ انہوں نے علمائے کرام پر زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور وراثت کے حوالے سے ان سے انصاف کرنے کے لیے آگاہی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور ریاست مدینہ کی روح یہ ہے کہ غریب کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں جبکہ دیگر معیشتوں کا تصور مختلف ہے۔ ریاست مدینہ کے اس تصور کی جانب پیشرفت کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔