بلوچستان ہائیکورٹ محکمہ فنانس میں اضافی تنخواہوں کی ادائیگی پر برہم

50

کوئٹہ(آن لائن)چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ 12سال نہیںبلکہ اگر 120سال سے برائی چل رہی ہو تو کیا اس کی اجازت دی جائے اور یہ عمل قانونی بن جاتا ہے بجٹ کی تیاری کیا فنانس ڈیپارٹمنٹ میں تعینات لوگوں کی ذمے داریوں کا حصہ نہیں کہ اس کے لیے چارچار اضافی تنخواہیں لیے جارہے ہیں بجٹ کی تیاری میں گورنر ہائوس چیف سیکرٹری آفس اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کا کیا کام ہے کہ ان کو بھی چار چار تنخواہوں سے نوازا گیا ہے حالت تو یہ ہے کہ بلوچستان حکومت،این ایچ اے اور سندھ حکومت کے حصے کاکام کررہی ہے اگر صوبہ اتنا مالدار ہوگیا ہے توپھر کیوں نہ تمام ملازمین کو چار چار تنخواہیں دی جائیں پی ایس ڈی پی کے حوالے سے ہم نے جتنی مدد کی ہے کیا کل ہم بھی یہ دعویٰ کریں کہ ہمیں کیش ایوارڈ دیا جائے یہ کوئی معقول دلیل نہیں یہ حکم جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے بایزید خان خروٹی برخلاف حکومت بلوچستان کے آئینی درخواست نمبر 718/2020کے سماعت کے دوران کیا ۔بلوچستان حکومت کی جانب سے سیکرٹری فنانس نورالحق بلوچ پیش ہوئے اورعدالت کو بتا یا کہ وہ رات گئے تک کام کرتے رہیں،محکمہ فنانس میں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے ،اس لییتمام ملازمین کو بطور گراس پے کے چارتنخواہوں کی ادائیگی کی گئی ہے جسٹس جمال خان خان مندوخیل نے سیکرٹری فنانس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ فنانس کی انتظامی حالت تو یہ ہے کہ فنانس کے کیش ایوارڈلینے والے اہلکاروںکے فرائض منصبی میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ بجٹ بنائیں کیا بجٹ کوئی الگ کام ہے آپ کی ذمے داریوں سے پی اینڈ ڈی کا کیا کام ہے کہ بجٹ کی تیاری میں ان کو بھی چار تنخواہیں دی گئی ہیں پی اینڈ ڈی کو تو پلاننگ ڈویژن کے ہدایات واضح طور پر موجود ہے کہ ستمبر سے وہ اپنے کام کا آغاز کرے گا اگر یہ کام وقت پر نہیں کرتے جس کی وجہ سے کام روک جاتا ہے تو اٹھارہ دن کے مسلسل کام کو کام کی زیادتی کی وجہ سے چار تنخواہیں اپنے نام کر لیں اگر ہم تین دن کیلئے عدالت نہ لگائیں اور چوتھے روز عدالت لگائیں اور رات تک کام کریں اس کے بعد یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں چار تنخواہیں دی جائیں کیونکہ ہم نے اپنے حصے کے کرنے کا کام رات گئے تک بیٹھ کر کیا ہے تو کیا یہ مناسب ہوگاجبکہ نظام میں خرابیوں کو ٹھیک کرنے کے بجائے اس میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہ کوئی جواز نہیں کہ 12سال سے کیش ایوارڈ دیا جارہا ہے اگر یہ 120سال سے بھی دیا جاتا رہے اور برائی چلتی رہے اور خلاف قانون ہو تا کیا ہم اس کواجازت دیں ایسا ممکن نہیں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔