مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی راہ ہموار

366

القدس: قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں کے اسرائیل سے پے درپے اسرائیل کے ساتھ سفارتی معاہدوں  سے مسجد اقصیٰ کی تقسیم کی راہ ہموار ہورہی ہے۔

خلیجی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹیریسٹریئل یروشلم(ٹی جی) نامی این جی او نے اپنی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کا عرب امارات، بحرین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنےکے معاہدوں میں استعمال کی گئی زبان سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ‘مسجد اقصیٰ’ کے احاطے پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہوسکتا ہے۔

اس سے قبل سن 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد معاہدوں میں اسرائیل نے اس بات کو تسلیم کیاکہ مسجد اقصی میں غیر مسلموں کو آنے کی اجازت تو ہوگی تاہم وہ عبادات نہیں کرسکیں گے ۔

رواں سال اگست کے مہینے میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جاری کردہ اعلامیے میں اس شق کو شامل کیا گیا تھا کہ  مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے عبادت گزاروں کو الاقصی مسجد اور یروشلم کے دیگر مقدس مقامات میں  داخلے کی اجازت ہونی چاہیے۔

فلسطینی وکیل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے بعد عرب امارات یہ شق تسلیم کرچکا ہے کہ ‘یواے ای مسجد اقصی ٰ پر مسلمانوں کےمکمل اختیار سے دستبردار ہوگیا ہے اور اس پر اسرائیل کا اختیار تسلیم کرتا ہے۔

وکیل خالد زبرقانے مزید کہا کہ معاہدے کی یہ شق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور 1967 میں مسجد اقصی کی تسلیم شدہ حیثیت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہے جسے اسرائیل نے مسلمانوں کا اختیار میں تسلیم کیا تھا۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدے میں شامل اس شق کے الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور مستقبل میں اس سے مسجد الاقصی کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی کا راستہ ہموار ہوگا۔

مقبوضہ بیت المقدس : فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج و پولیس یروشلم میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچانےلگے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کررہا ہے، گزشتہ ماہ اگست میں قابض  صہیونی فوج نے یروشلم اور غزہ کے مغربی کنارے سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں میں 1743 کارروائیاں کیں جس میں 380 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔

Jewish Extremists' Attacks Rattle Christians in Holy Land

ان کارروائیوں میں 3 فلسطینی نوجوانوں کو شہید کیا گیا جبکہ 85 افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کئے گئے۔

اگست میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی یہودی آباد کاروں نے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات پر 24 بار حملہ کیا جبکہ اسی ماہ 1600 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا اور اس کے اندرونی حصوں کو نقصان پہنچایا۔

حماس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی حکومت مسجد اقصیٰ سے مسلمانوں کو زبردستی عبادت سے روک رہی ہے، یہاں کے مسلمان گارڈز کو زبردستی باہر نکال دیا گیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے چیک پوائنٹس کی تعداد بڑھا کر 479 کردی ہیں ۔

Death to Arabs': The Israeli army's new unofficial slogan? | Middle East Eye

گزشتہ ماہ اگست میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کے 107 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ صرف یروشلم میں مختلف مسلمان گھروں پر 313 بار چھاپے مارے گئے، رواں سال اسرائیلی فوج و پولیس نے مل کر کارروائیاں کرتے ہوئے سب سے زیادہ  فلسطینی مسلمانوں کے 44 گھر مسمار کیے ۔

اسرائیلی فوج نے فلسطینی کسانوں کی زرعی زمینوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اب تک 52 کسانوں کی زمینیں اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لی ہیں، علاوہ ازیں فلسطینیوں کے 8 تجارتی مراکز بھی اسرائیلی قبضے میں ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ نے  حضرت داؤد علیہ السلام کے دور میں تعمیر کیے گئے پہلے ہیکل کی باقیات دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ نے کھدائی کے دوران ملنے والے تاریخی عمارت کے ٹکڑے اور سکے منظر عام پر لاتے ہوئے عوامی نمائش کیلیے پیش کردیے ہیں۔

Image from an archaeological dig at Armon HaNatziv that yields remnants of an ancient mansion (Yoli Schwarts, Israel Antiquities Authority)

اس حوالے سے ماہرین نے کہا ہے کہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ  پہلے ہیکل کی عمارت کے تین درمیانے سائز کےخاص پتھر، شاہانہ انداز میں بنائے گئے کھڑکی کے چوکھٹ اور چاندی کے سکے برآمد ہوئے ہیں۔

A five-shekel coin juxtaposed with a column head found at Armon HaNatziv (Yaniv Berman, Israel Antiquities Authority)

آئی اے اے کے ماہر آثار قدیمہ یاکوف بلیگ کی سربراہی میں ٹیم نےگزشتہ سال نومبر میں کھودائی کے دوران شاہی یہوداہ کے انداز میں خوبصورتی سے نقش دار حکومتوں کے ساتھ محل کے دفن شدہ ٹکڑوں کا انکشاف کیا۔ یاکوف بلیگ کے انکشافات کے دوران اسرائیلی وزیر ثقافت ہلی ٹراپر نے بھی شرکت کی۔

The unveiling of a column head found at a dig at Armon HaNatziv, Jerusalem (Yoli Schwartz, Israel Antiquities Authority)

پہلے ہیکل کے دور سے یہ دریافتیں یروشلم کے پرانے شہر کے جنوب میں واقع ایک اسٹریٹجک پہاڑی ارمون ہناتزیو کے پڑوس میں کی گئیں۔ آئی اے اے کے ماہر آثار قدیمہ یاکوف بلیگ کی سربراہی میں ایک ٹیم نے نومبر میں ایک زائرین کے مراکز کی تعمیر سے قبل کھودنے کے دوران شاہی یہوداہ کے انداز میں خوبصورتی سے نقش دار دارالحکومتوں کے ساتھ محل کے دفن شدہ ٹکڑوں کا انکشاف کیا۔

The unveiling of the column heads on September 3, 2020 (Yoli Schwartz, Israel Antiquities Authority)

اس سے قبل نیشنل جیوگرافک مسجد اقصیٰ کے نیجے کھدائی تصاویر جاری کرچکا ہے جو یہ ہیں

آئی اے اے کے یروشلم ڈسٹرکٹ کے ہیڈ آثار قدیمہ کے ماہر یوول باروچ نے کہا کہ یہ محل 586 قبل مسیح میں بیت المقدس کی فتح کے دوران تباہ ہو گیا تھا، باقیات تباہی کے علاقے آثار پائے گئے ہیں۔

نیشنل جیوگرافک کی تصویر میں دیکھا جاکتسا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے نیجے کھدائی کے دوران منعقد ہوا کانسرٹ

یاکوف بلیگ نے مزید کہا کہ  ہیکل کی تباہی کے دوران کچھ ٹکڑے گرے انہیں جان بوجھ کر زمین میں دفن کردیا گیا تھا، اس دور میں جن چیزوں کو دوبارہ استعمال کیا جاسکتا تھا وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔