مالکان پاکٹ یونین کی سرپرستی نہ کریں،شمس سواتی

97

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی نے گوجرانوالہ اور فیصل آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل شاہد ایوب، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل طیب اعجاز، صوبائی صدر امین منہاس بھی ہمراہ تھے۔
گوجرنوالہ میں نیشنل لیبر فیڈریشن اور لیبر ونگ کا 6 ستمبر 2020ء کو مشترکہ اجلاس اور رانا عبدالجبار کے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ ایک فیصد سے کم اشرافیہ اس ملک پر حکمران ہے اور 99 فیصد سے زیادہ عوام یرغمال ہے۔ مہنگائی بے روزگاری سے سے سب سے زیادہ مزدور طبقہ متاثر ہوا ہے اور کوویڈ 19 نے مزید کسر نکال دی ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ گورنمنٹ سیکٹر میں ملازمت کی عمر کم کرنے، سالانہ انکریمنٹ بند کرنے اور پنشن ختم کرنے کا چرچا ہے جس کے لیے سرکاری ملازمین بھی سراپا احتجاج ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر ہو یا پبلک سیکٹر ٹریڈ یونین کرنا جرم بن گیا ہے۔ حکومتی ادارے، مالکان اور انتظامیہ کی ایما پر حقیقی ٹریڈ یونینز کے لیے مسائل اور رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ پاکٹ یونینز کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، ٹریڈ یونین کی پاداش میں فوجداری اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں۔ ٹھیکیداری نظام کو رواج دیا گیا ہے۔ مستقل آسامیوں پر بھی ٹھیکیدار کے ذریعے بھرتی کی جارہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
فارمل سیکٹر میں ٹھیکیداری نظام کے ذریعے ٹریڈ یونین کو ختم کیا جارہا ہے اور سوشل سیکورٹی سے محروم کیا جارہا ہے۔ جبکہ انفارمل سیکٹر پہلے ہی بے گار کیمپ ہے۔ جنگل کا قانون ہے، مزدور کا کوئی پُرسال حال نہیں ہے، 7 کروڑ سے زیادہ لیبر فورس میں سے 36 لاکھ کو لیبر قوانین کی سہولت حاصل ہے جبکہ EOBI، WWF اور سوشل سیکورٹی سے 22 لاکھ لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ کروڑوں مزدوروں کو لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے قوانین کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے اور یہ سب کچھ وہ لوگ کررہے ہیں جو ان کروڑوں مزدوروں کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ مزدور ظالموں کو ووٹ دیتے ہیں اور پھر ظلم کے خلاف دہائی دیتے ہیں۔ مزدوروں کو اپنی طاقت کا اندازہ نہیں ہے، وقت آگیا ہے کہ تمام مزدور اور ملازمین متحد ہو کر فیصلہ کریں کہ 73 سال سے حکمران طبقے کو ووٹ نہیں دیں گے یہی ظلم کو روکنے، خوشحالی اور اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے، اپنی عزت نفس اور حقوق کی بازیابی کا واحد راستہ ہے کہ ووٹ امانتدار، دیانتدار قیادت کو دیا جائے تا کہ ملک ترقی کرے۔ صنعتوں کا پہیہ چلے، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کی غلامی سے نجات حاصل ہو، اب مزدوروں اور ملازمین کو اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔
7 ستمبر کو فیصل آباد دورے کے موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن فیصل آباد، پاسبان رکشہ یونین، پاسبان لیبر موومنٹ اور ابراہم فائبر کے بے روزگار مزدوروں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ ڈائریکٹر لیبر فیصل آباد سے ملاقات کی۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ ابراہم
فائبر کی انتظامیہ نے کوویڈ 19 کی آڑ میں ہزاروں مزدوروں کو نوکریوں سے نکالا لیکن حکومت نے ابراہم فائبر مالکان کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ حکمران سرمایہ داروں کے سامنے یرغمال ہیں، مزدوروں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ مزدور کی کوئی آواز نہیں، مزدور خود شعور و آگہی حاصل کریں کہ اُن کے ووٹوں سے طاقتور بننے والے اُن پر ظلم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومتی ادارے میں مزدوروں کے حقیقی نمائندوں کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مزدور سماجی تحفظ اور لیبر قوانین سے محروم ہیں۔ EOBI، WWF اور سوشل سیکورٹی میں بدترین کرپشن ہے، کوئی بھی ادارہ لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں کررہا۔ اگر یہ ادارے اپنا کام کررہے ہوتے تو مزدوروں کو بے گار کیمپ جیسی صورتحال کا سامنا نہ ہوتا۔ کروڑوں مزدور لیبر قوانین اور سماجی تحفظ سے محروم نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹریڈ یونینز فیڈریشن اور ٹریڈ یونین لیڈر شپ کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تمام انجمنیں ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پر متحد ہو کر جدوجہد کریں اور مزدور کی حمایت کو جمع کرکے استحصالی قوتوں کا مقابلہ کریں۔