مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کی مذمت

80

پاکستان مزدور اتحاد ٹریڈ یونین فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل عبدالستار نیازی نے سوشل سیکورٹی اسپتال لانڈھی میں مریضوں کے مسائل و تکلیف سننے کے بعد منسٹر لیبر سندھ اور کمشنر SESSI سندھ سے مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کے نام پر اربوں روپے کنٹری بیوشن لیا گیا ہے مگر افسوس کہ سوشل سیکورٹی سندھ میں اس وقت علاج کے نام پر مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہا ہے جس کی ہم پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ آپ نے مزید کہا کہ کورونا کے نام کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں اور کورونا ختم ہونے کے قریب ہے تو SESSI نے 89 یوم میں غیر قانونی بھرتیاں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کے وارڈز میں باتھ روم کی حالت زار بے حد گندگی سے بھر پور اور دوسری طرف MSوDMS کے دفاتر صدر پاکستان کے دفاتر سے بھی چند قدم آگے۔ دوسری جانب مریضوں کو دی جانے والی ادویات غیر معیاری لوکل کمپنیوں کی دی جاتی ہیں جو کہ مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ آپ نے کہا کہ کڈنی اسپتال لانڈھی میں مریضوں کی ڈائیلائسس کئی دنوں سے بند ہے۔ بارشیں بند ہوئے کئی روز گزر گئے مگر آج بھی کڈنی سینٹرمیں کڈنی کے مریض زندگی و موت سے دوچار ہیں۔ کڈنی کے مریضوں کو بھی غیر معیاری ادویات دی جا رہی ہیں جو کہ SESSI کے کرتا دھرتا کے لیے شرم کا مقام ہے۔ SESSI میں بھرتیوں کے نام غیر قانونی طور پر بندر بانٹ کی گئی اور بچوں بھانجوں بھتیجوں کوبھرتی کیا گیا۔ اس غیر قانونی بندر بانٹ پر فیڈریشن نے کمشنر SESSI کو خطوط ارسال کیے گئے مگر افسوس کہ اس غیر قانونی بھرتیوں کی بندر بانٹ کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ SESSI میں جاری کرپشن کے خلاف بھی آگاہ کیا گیا مگر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
ہم SESSI انفارمیشن سروس سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ اور غیر قانونی بندر بانٹ و ہونے والی کرپشن کے خلاف بھی آواز بلند کریں۔ فیڈریشن مطالبہ کرتی ہے کہ خدا کے قہر سے ڈرو اور مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ بند کرو، ورنہ کراچی کی تمام مزدور تنظیمیں قانونی کارروائی کے ساتھ SESSI ہیڈ آفس کا گھیراؤ کیا جائے گا۔