سانحہ بلدیہ ٹائون ۔ انصاف کب ہوگا؟

94

11ستمبر 2012کو علی انٹر پرائز بلدیہ ٹائون کراچی میں 259بے گناہ مزدوروںکو زندہ جلادیا گیا ، غربت سے مجبور ہاتھ، پائوں میں مہندی کے خواب لیے جہیز کے لیے نوکری کرنے والی محنت کش بیٹیاں خون میں نہلا دی گئیں بچوں کا باپ بوڑھے ماں، باپ کا سہارہ چھین لیا گیا 8سال سے لواحقین انصاف کے لیے در بدر ہیں ،وحشیانہ قتل عام کے ذمہ داروں کو پوری دنیا جانتی ہے لیکن 8سال گزرجانے کے باوجود دہشت گرد کورٹ نے ظالم ملزموں کو سزا دینے میں نا کام رہی 8سال گز ر جانے کے باوجود شہداء کے لواحقین انصاف اور اپنے معاوضے کے لیے انتظار میں ہیں دہشت گردی کورٹ میں کیس کی سماعت جس سست رفتار سے جاری ہے وہ انصاف کا قتل عام ہے اور انصاف خاموش ہے ۔بلدیہ ٹائون کے حادثہ کے موقع پر کئی ممالک نے لاکھوں ڈالر کی امداد شہداء کے لواحقین میں تقسیم کرنے کے لیے حکومت کو دی لیکن حکومت سندھ نے جسکا کا کردار ہمیشہ مشکوک رہا ہے پہلے تو سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے صنعتکا روں کے مطالبے پر مالکان کے خلاف درج FIRمیں جو دفعہ302کے تحت داخل کی گئی تھی کو ہذف کرواکے مالکان کو ضمانت پر رہا کروایا اور وہ ملک سے چلے گئے ہیں ہماری اطلاع کے مطابق 60کروڑ روپے جو لواحقین کے شہداء کا حق ہے کو حکومت سندھ نے بدنام زمانہ ادارہ سندھ سوشل سیکورٹی کے حوالے کر کے فکس ڈیپازٹ میں جمع کروادیا جس سے ماہانہ بنیادوں پر شہداء کے لواحقین کو مدد کی جاتی ہے شہداء کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ انہیں یہ رقم جو ان کا حصہ بنتا ہے کو یکمشت ادا کردیا جائے تا کہ وہ اپنے معاشی بحالی کے لیے استعمال کر سکیں کیونکہ حکومت سندھ اور سوشل سیکورٹی کا اس میں مفاد ہے اس لیے یہ رقم شہداء کے لواحقین کو یکمشت ادا کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے ۔
شہداء کے لواحقین کے اس مطالبے کو میں کافی حد تک صحیح سمجھتاہوںاور مجھے یہ بھی خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت یہ 60کروڑ روپے حکومت سندھ ٹیکانے بھی لگا سکتی ہے 60کروڑ روپے کی اس امداد کو فوری طور پر یکمشت شہداء کے لواحقین میں صاف ستھرے اور شفاف طریقے سے تقسیم کیا جائے اس کے لیے میری تجویز ہے کہ اس عمل میں NGOخاص طور پر پائلر جیسی تنظیموں کو دور رکھا جائے اور پاکستان کی نمائندہ فیڈریشن جس میں پاکستا ن ورکرز کنفیڈریشن ، پاکستان ورکرز فیڈریشن ،متحدہ لیبر فیڈریشن، نیشنل لیبر فیڈریشن کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو غیر ملکوں سے آنے والی تمام امداد کا جائزہ لے اور 60کروڑ روپے کی یکشمت تقسیم کی نگرانی بھی کر سکے ۔
بلدیہ ٹائون کے سانحہ کے لواحقین کو یکمشت رقم کی ادائیگی اور مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کے لیے ملک کی تمام فیڈریشنوں کو بھر پور احتجاج کرنا چاہیے ۔