بدین ،تحصیل ماتلی کا ایک ارب 87 کڑور روپے کا بیوٹی فکیشن پلان التوا کا شکار

84

بدین (نمائندہ جسارت) سندھ حکومت کا تحصیل ماتلی کے لیے 1 ارب 87 کروڑ روپے کا بیوٹی فکیشن پلان اور پروجیکٹ تاحال التوا کا شکار، منصوبہ شہریوں کے لیے عذاب اور درد سر بن گیا۔ سندھ حکومت کے ماتلی بیوٹی فکیشن پروجیکٹ کی آئندہ 50 سالہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی پلاننگ میں 9 کشادہ سڑکیں اور میونسپل کمیٹی ماتلی کے 12 وارڈوں میں مکمل ڈرینج سسٹم اور شہر کو صاف شفاف پانی کی فراہمی کے لیے دنیا کا جدید فلٹر گیلری سسٹم واٹر سپلائی کا نظام قائم کیا جانا تھا، کرپشن اور کمیشن کلچر کے باعث تین سال گزر جانے کے باوجود پروجیکٹ کی 9 سڑکوں میں سے جن 5 سڑکوں کی تعمیر شروع کی گئی تھی وہ بھی تاحال ادھوری اور نامکمل ہیں بلکہ تعمیر کے چند ہی مہینوں میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوگئی ہیں اور ان میں جگہ جگہ گڑھے پڑگئے ہیں۔ پروجیکٹ کے تحت علی شیر کانٹا سے 9 سڑکیں علی شیر کانٹا تا فلکارہ چوک فلکارا چوک، فلکارہ چوک سے حیدر ہوٹل، فلکارہ چوک سے جنرل بس اسٹینڈ، بس اسٹینڈ چوک سے ٹنڈو غلام علی روڈ کے بائی پاس موڑ تک بس اسٹینڈ چوک سے پھلیلی کے پل تک، پھلیلی پل سے المدینہ چوک بدین بائی پاس موڑ تک، گرلز ڈگری کالج لنک روڈ پھلیلی کے پل (فتح پور محلہ) اور چانڈیا محلہ سے بدین بائی پاس تک اور ریلوے اسٹیشن سے بدین روڈ ریلوے پھاٹک تک سڑکیں تعمیر کی جانی تھیں۔ پروجیکٹ کے پہلے دو سالہ مرحلے کی فیز ون کے لیے حکومت نے 88 کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کیا تھا، اس سے 65 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈرینج سسٹم اور 23 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی نظام تعمیر کیا جانا تھا۔ زیر زمین کھدائی کے ان دونوں اسکیموں کے مکمل ہونے کے بعد دوسرے دو سالہ فیز میں پروجیکٹ کے لیے مختص ایک ارب روپے کے فنڈ سے تجویز کی گئی 9 سڑکوں کی تعمیر ہونا تھی۔ ذرائع کے مطابق پروجیکٹ کے پہلے فیز کے فنڈ سے ہی دونوں فیز کی ترقیاتی اسکیمیں مکمل کر کے دوسرے فیز کی رقم ہڑپ کی جانی تھی اور پروجیکٹ کے سیاسی نگرانوں نے ماہرین کے تیار کردہ پروجیکٹ کے ڈیزائن کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرکے پروجیکٹ کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ کرپشن اور غلط پلانگ کی وجہ سے منصوبہ تو تاحال التوا اور تاخیر کا شکار ہے پر اس منصوبے کی تعمیر سے قبل شہر بھر میں جو روڈ، راستوں، گھروں اور دکانوں کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی، ماتلی کے شہریوں کے لیے یہ منصوبہ فائدہ مند ہونے کے بجائے پریشانی کے علاوہ ایک درد سر اور عذاب بن چکا ہے۔