محمد اسحاق ساجد،گوادر میں کرکٹ کی پہچان

110

تحریر:حاجی محمد حنیف حسین
سابق صدر ڈی سی اے گوادر
استاد محمد اسحاق ساجد کا شمار گوادر میں کرکٹ کو جلا بخشنے والوں میں ہوتا ہے۔ گوادر کرکٹ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ان جیسے نفیس کردار کے مالک کو پیش پیش پائیں گے۔ آج بھی اْن کے تراشے ہویے ہیرے اْنہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں – ابتداء سے لے کر آج تک کرکٹ اور کرکٹرز سے انہیں بہت زیادہ لگاؤ اور محبت ہے۔ انہوں نے گوادر کرکٹ کے بہت سے مایہ ناز کرکٹرز محمد اسلم کٹھے ‘ حاجی غلام محمد ‘ غلام قادر کرمانی ‘سعید نوری ‘ شکور کٹھے ‘ باسط لطیف ‘ فیض نگوری ‘ کریم نواز و دہگر کو اپنی صلاحیتیوں سے بہترین پلیٹ فارم مہیا کیا۔وہ گوادر کے کلبوں میں نیواسٹار کرکٹ کلب کے بانی ارکان میں سے ہیں اور بلوچ کرکٹ کلب کو دوبارہ متحارک کرنے میں محمد اسحق کا کلیدی کردار ہے۔ نیواسٹارکرکٹ کلب کا پرانا نام ساجدیہ کلب تھا جو ان کا تخلص بھی ہے – بعدازاں ڈاکٹر مجید اور پرویز جمیل نے کلب کا نام نیواسٹار کرکٹ کلب رکھا۔ گوادر کرکٹ کی اب تک جتنی ایسوسی ایشنز بنیں ان میں سب سے زیادہ محمد اسحاق ساجد کا کردار شفاف رہا ۔ وہ خاموش طبیعت، خوش اخلاق اور انتہائی نفیس قسم کے انسان ہیں اور گوادر کرکٹ کی ابتداء سے لیکر اب تک کے تمام نشیب و فراز سے واقف ہیں۔نیواسٹار کرکٹ کلب کے بانی رکن کے علاوہ وہ کلب کے پہلے کوچ بھی ر ہے اور آج بھی وہ کلب سے دلی لگائو رکھتے ہیں۔ ہمیں گوادر کرکٹ کے ایسے مثبت و ناپید کرداروں(ماما امام بخش ،کیپٹن غنی آصف ‘ ڈاکٹر مجید ‘ علی شاہین کہدہ محمد ‘ مراد قریش ‘ عزیز انور ‘ صدرالدین جعفر ‘ عیسی جعفر ‘ مجید کامریڈ ‘ کریم بخش چھو ٹا ‘کریم شیر ‘ جلیل پی آئی اے ‘ یوسف ‘ شوکت سلطان ‘ پپو سلطان ‘ سعید نوری ) کو نہیں بھولنا چاہیے اور آج جب بھی محمد اسحق سے ملاقات کا شرف ملتا ہے توگوادر کرکٹ کے ابتدائی حالات و واقعات پر خوب گفت و شنید ہوتی ہے اور اْن سے بات کرتے ہویے ماضی کے دریچے خودبخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔ خاص طور پر کاجل گرائونڈ کی پرانی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ استاد کی نصیحت اور تجربے سے ہم نے کافی سبق سیکھاہے اور ان جیسے کرکٹ منٹور کو دیکھ کر ہم جیسے شاگردوں میں بہت ہمت پیدا ہوتی ہے۔ وہ کرکٹ کے مشہور رسالہ “اخبار وطن” جس کے ایڈیٹر منیر حسین مرحوم تھے جب تک وہ گوادر آتا رہا مطالعہ کرکے خوش بھی ہوتے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں بہت معلومات افزا قاری کو پڑھنے کے لیے مواد ہوتا تھا۔90 کی دہائی میں اْستاد نے کو چنگ کے دوران نیواسٹار کرکٹ کلب کے نئے آنے والے کھلاڑیوں پر بہت محنت کی جس پر سب کو بہت فخر ہے۔ وہ اپنے آپ میں کرکٹ کے انسائکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی لازوال شخصیت کی وجہ سے آج بھی قابل احترام سمجھے جاتے ہیں۔استاد آج بھی نئے کھلاڑیوں کو یہی نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ اسپورٹس مین اسپرٹ انسان کو قوت برداشت و حوصلہ اور دوستی کا حسین امتزاج دیتی ہے کیونکہ کرکٹ مکمل نظم و ضبط اور صاف و شفاف اور بے قاعدگی سے پاک کھیل ہے۔ سخت مقابلے کے بعد کرکٹ کھیل سب کو بغل گیر کرتا ہے جو انسانی انا و ضد کو چکنا چور کر دیتا ہے۔ کرکٹ کھلاڑی کی کٹ جوتے سے لے کر اْس کے ہلمیٹ تک ڈسپلن کا پیغام دیتا ہے۔ محمد اسحق کہتے ہیں کہ کرکٹر کو زندگی میں اخلاقیات جیسے موضوع کا مطالعہ کرکے اس کو اپنانا چاہیے اس کے بعد کرکٹر بنے تو درخشان ستارہ بن کر ابھرے گا ، بحیثیت استاد وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ایک اچھے کرکٹر کو سب سے پہلے ایک اچھا انسان بننا چا ہیے کیونکہ انسانیت کی یہی اچھائیاں اْسے ایک دن عظیم کرکٹر بنا دیں گی۔ آج ان کے دئیے ہویے درس اور اْن کی شخصیت و کردار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہی گمان ہو ر ہا ہے کہ اْن کا کردار و شخصیت کی سرحدیں اتنی وسیع ہیں کہ انہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خواہش ہے کہ ہمارے کرکٹ سرکل میں استاد محمد اسحق جیسے عظیم انسان ہمیشہ شامل ہوتے رہیں اور گوادر کرکٹ کو تقویت بخشیں۔ اللہ تعالی سے دْعا ہے کہ ہمارے ان محسن اْستاد کو لمبی عمر عطا کرے اور وہ ہمیشہ صحت و تندرستی کے ساتھ ہمارے درمیان رہیں ۔