تو مسلماں ہے تو تقدیر ہے تدبیر تری

154

ثروت اقبال
آج اریبہ کو سو کر اُٹھنے میں کچھ دیر ہو گئی آنکھیں ملتی ہوئی اریبہ نے مما مما کی آوازیں لگاتے ہوئے باورچی خانے کا رُخ کیا ۔یہ اس کا معمول تھا ۔۔۔۔۔۔سو کر اُٹھنے کے بعد اس کی پوری آنکھیں تب ہی کھلتی جب تک وہ اپنی مما کے ہاتھ نہ چوم لے ۔ اریبہ نے ادھ کلی آنکھوں سے مما کے ہاتھ چومتے ہوئے کہا پیاز کی آ رہی ہے اس کا مطلب ہے آپ آملیٹ بنا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ مما کے ہاتھوں میں پیاز ہو یا لہسن ادرک آٹا ہو یا بیسن یا اور سبزی اسے تو صرف مما کے ہاتھ چاہیے پیار کرنے کے لیے۔۔۔۔ مما نے کہا اریبا میں نے ناشتے کے برتن دھو دیے ہیں تم چائے پی کر اپنا کپ دھو لینا ۔
مما ہر تھوڑی دیر بعد برتن کیوں جمع ہو جاتے ہیں اِدھر برتن دھو کرہٹو ہر تھوڑی دیر بعد سنک پر کوئی نہ کوئی گندا برتن منہ چڑا رہا ہوتا ہے ایسا ہی کچھ کوڑ ا کرکٹ کے ساتھ بھی ہے ہرروز کچرے کا ڈبہ بھر جاتا ہے ہم سب لوگ روز کتنا زیادہ کچرا نکالتے ہیں۔
مما نے کہا اریبہ ایسی منفی سوچ نہیں رکھتے اگر ہم مثبت انداز میں دیکھیں تو ہر کچھ دیر بعد کچھ برتنوں کا گندہ ہونا ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے بے شمار نعمتیں اور برکتیں عطا کی ہیں اور اس کی فراوانی ہے کچھ نہ کچھ کھانے پینے سے ہی گندے برتن جمع ہوتے ہیں۔اسی طرح کچرہ جمع ہونے کا معاملہ بھی ہے۔۔۔۔ میری مما ہر بات میں مثبت پہلو نکال ہی لیتی ہیں وہ مسکرائی اپنا چائے کا کپ دھوکر آئی اور بولی۔