عزت

158

ناہید خان
وہ نہایت شریف اور ایک عزت دار لڑکی ہے!!!! رمیز یہ کہہ کر جا چکا تھا مگر اس کے جملے کی بازگشت اسے دور تک سنائی دے رہی تھی۔
وہ عزت دار ہے تو پھر۔۔۔میں۔۔۔۔؟
فری بیٹا اٹھ جاؤ۔۔ آج یونیورسٹی نہیں جانا کیا ۔۔۔۔
۔اوہو ۔۔۔سونے دیں مما بہت نیند آرہی ہے ۔۔فریحہ نے تکیے سے سر بھینچتے ہوئے کہا۔۔۔
ہاں ہاں سونے دو میڈم کو۔۔۔۔ساری رات رتجگا جو کیا ہوگا نا۔۔۔۔۔ماں نے پیار سے جھڑکا۔۔۔
باجی رمیز صاحب آئے ہیں ملازمہ نے آکر اطلاع دی۔۔ ۔کیا۔۔۔؟ فریحہ ایک دم چونکی رمیز آبھی گیا۔۔اوہو اس نے تکیہ ایک طرف اچھالتے ہوئے بیڈ سے چھلانگ ماری جلدی سے سلیپرز پیروں میں اٹکائے اور تیزی سے واش روم جاتے جاتے ایکدم پلٹی جیسے کچھ یاد آگیا ہو سکینہ۔۔۔ وہ الماری تک آئی اور کپڑے ملازمہ کی طرف اچھالتے ہوئے بولی
فریحہ خوبصورت اور ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی لاڈ پیار نے اسے خودپسند بنادیا تھا رمیز کی نرم مزاجی کا بھی اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا خالہ زاد ہونے کے ناتے دونوں میں بہت بنتی فریحہ کی خودسری کے آگے رمیز کی ایک نہ چلتی۔۔۔گویا فریحہ کا اس پر پورا تسلط تھا۔۔اور وہ بھی رمیز کے معاملے میں بہت جزباتی تھی۔۔
میڈم اب آرڈر کربھی دو پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیںشہنیلا نے میز بجاتے ہوئے کہا۔۔۔ صبر۔۔۔رمیز کو تو آ لینے دو ۔۔ارے وہ دوستوں میں مست ہوگا ۔۔کھا پی لیا ہوگا اس نے۔۔امپاسیبل۔۔۔۔فریحہ نے موبائل میز پر گھماتے ہوئے کہا۔۔۔ وہ میرے بغیر سانس بھی نہیں لیتا۔۔۔لہجے میں فخر نمایاں تھا اوہو اتنا بھروسہ۔۔بی بی مرد کی ذات اتنی با اعتبار نہیں ہوتی ان کے دل میں کچھ اور زباں پر کچھ ہوتا ہے۔۔۔شہنیلا نے ڈرامائی انداز میں قریب آکر سرگوشی کی۔۔۔شہنیلا نے اسے اوپر سے نیچے تک گھورا جو دونوں پیر کرسی پر رکھے اپنے بالوں سے کھیل رہی تھی۔۔اچھا بکو مت ۔اور وہ دیکھو تمہاری شرم کی بوبو آرہی ہےفریحہ نے شہنیلا کی پشت کی طرف تمسخر بھرے انداز میں اشارہ کیا جہاں ثریا بڑے پر وقار انداز میں مکمل حجاب لیےہاتھ میں رجسٹر تھامے چلی آرہی تھی۔۔شہنیلا نے گھوم کر اسے دیکھا اور بولی فری یار تجھے اس بے چاری سے کیا مسئلہ ہے۔۔۔مجھے اس ایک بے چاری سے نہیں اس جیسی تمام بے چاریوں سے مسئلہ ہے جو اپنی محرومیوں کو اس دوگز کے ٹکڑے میں چھپانے کی کوشش کرتی ہیں ۔۔دیکھا نہیں تھا مجھے رمیز کے ساتھ بائک پر دیکھ کر کیسے آنکھیں پھٹی تھیں حسرت سے۔۔۔۔ہنہ۔۔فریحہ نے منہ بنایا۔۔۔۔حسرت سے نہیں استعجاب سے۔۔ آج کون زیر عتاب ہے بھئی۔۔رمیز نے کرسی گھماکر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔وہی ثریا۔۔۔شہنی نے کندھے اُچکائے۔۔۔۔اوہ اچھا۔۔۔۔مگر یار یہ بھی تو دیکھو وہ کتنی ریزرؤ ہے اور کلاس میں کسی کی ہمت نہیں کہ کوئی اسے تنگ کرے یہ سب اسی وجہ سے ہے نا کہ وہ خود کو چھپا کر رکھتی ہے ۔۔اس کے ان ریمارکس سے فریحہ پوری جان سے جل گئیاور کھاجانے والی نظروں سے رمیز کو گھورا۔۔۔کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔ہمارے گروپ کی لڑکیاں کیا بے شرم ہیںجو حجاب نہیں کرتیں ۔۔ارے میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔۔سدا کا صلح جو رمیز گڑبڑاگیا۔۔۔۔۔میں تو بس یہ کہ رہاہوں کہ…آئس کریم کھاؤگی۔۔۔اور وہ فلک شگاف ہنس دی۔
لو یہ بی بی کوئی نیا شوشہ لائیہیں اس نے ثریا کو کچھ کتابچے تقسیم کرتے دیکھ کر برا سا منہ بنایا
چپ ہوجاؤ وہ اس طرف ہی آرہی ہے۔۔۔شہنیلہ نے اسے دیکھ کر جبری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجالی
مبادا وہ فریحہ کے اس کے لیےجزبات نہ بھانپ لے
اسلام علیکم۔۔۔4 ستمبر کو ہم عالمی یوم حجاب منارہے ہیںاس نے ایک کتابچہ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔۔اس سلسلے میں آن لائن ایک سیمینار ہے آپ اپنی شرکت کنفرم کردیں گی۔۔اسکے نرم لہجے کا سب لڑکیوں پر اثر نمایاں تھا متاثر تو وہ بھی ہوئی تھی مگر پھر فطری خودپسندی عود آئی۔۔۔دیکھو تم ۔۔۔۔۔وہ کوئی سخت جملہ کہنے جارہی تھی کہ سامنے سے سر راحیل آتے نظر آئے جو” عزت” کرنے میں منٹ نہیں لگاتے تھے اس نے جلدی سے وہ کتابچہ اپنے بیگ میں ٹھونس لیا۔۔۔۔
آج موسم کے تیور خطرناک ہیںجلدی کرو اس شہر کا تو تمہیںپتا ہے منٹوں میں دریا بن جاتاہے۔۔۔جلدی کرتے بھی آسمان کو کالے بادلوں نے آلیا اور دھواں دھار بارش شروع ہوگئی۔۔۔سب گھر پہنچنے کی جلدی میں بھاگ رہے تھے۔۔۔رمیز بھی گاڑی روڈ پر لے آیا۔۔۔ارے یہ کون ہےجو ابھی تک یہاں کھڑا ہے وائپ ہوتی ونڈ اسکرین سے اس نے دیکھا ۔۔۔ارررے ۔۔۔یہ تو ثریا ہے ہماری کلاس فیلو۔۔۔تو ہونے دو فریحہ نے رمیز کے تیور دیکھ کر اسے سرزنش کی۔۔۔نہیں فری ایسے موسم میں کیسے گھر جائے گی ۔۔۔۔آٹو میں جائے گی اور کیسے ۔۔۔نہیں ہم اسے ڈراپ کریں گے ۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے گاڑی ثریا کے پاس روک دی اور چلایا جلدی آجاؤ ۔۔ثریا جو دہشت سے سہمی ہوئی تھی فری کو دیکھ کر اسکی ڈھارس بندھی اور وہ فورا ًبیٹھ گئی۔۔۔بس یہیں روک دیں۔۔۔تشکربھری نظروں سے وہ فری کو دیکھتی تیز قدموں سے اپنے گھر میں داخل ہوگئی۔۔۔
گھر پہنچتے بارش بھی ہلکی ہوگئی تھی۔۔۔تمھیں کیا ہوا ہے۔۔۔رمیز نے فری کا منہ پھولا دیکھ کر کہا
کیا ضرورت تھی اسے گاڑی میں بٹھانے کی۔۔۔شہزاد سے کہتے اسکی بائک خالی تھی ۔۔۔۔فری پاگل تو نہیں ہوگئی ہووہ ایک شریف عزت دار اور باپردہ لڑکی ہے کیسے کسی لڑکے کے ساتھ چلی جاتی۔۔۔
عزت دار۔۔۔کیا بائک پر کسی کے ساتھ بیٹھنے سے عزت نہیں رہتی۔۔۔۔۔تم سے تو بحث فضول ہے کہتے ہوئےرمیز جاچکا تھا مگر اسے اپنی اوقات بتاگیا تھا۔۔ اسے شہنیلا کے الفاظ یاد آئے۔۔مرد کی زبان پر کچھ اور دل میں کچھ ہوتا ہے۔۔۔۔صدمے اور دکھ سے وہ گنگ تھی۔۔۔دوگز کپڑے کے ٹکڑے نے ثریا کو اچانک کتنا معتبر کردیا تھا آنسو بارش کے قطروں کے ساتھ مل کر ساری کدورت وغلاظت دھو چکے تھے مجھے بھی عزت دار بننا ہے۔۔۔اس نے آہستہ سے بیگ میں کچھ تلاش کیا ہاتھ باہر نکالا ثریا کا دیا مطلوبہ کتابچہ سامنے تھا وہ مسکرائی۔۔۔۔جلی حروف میں لکھا تھا۔۔۔
“حجاب میری عزت “