خواتین نے اپنے علاقے کو منشیات سے کیسے محفوظ بنایا؟ نیوز ڈیسک

107

 

کچھ عرصہ پہلے تک صوبہ بلوچستان کے بہت سے دیگر سرحدی علاقوں کی طرح ضلع کیچ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بلیدہ میں بھی منشیات باآسانی اور ارزاں نرخوں پر دستیاب تھی۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے سرحدی اضلاع افغانستان میں تیار کی جانے والی منشیات کی سمگلنگ کے بین الاقوامی روٹ کا حصہ ہیں اور اسی لیے ان علاقوں میں منشیات کی وبا کا عام ہونا اور کئی خاندانوں کا اس وبا کے ہاتھوں تباہ ہونا کوئی راز کی بات نہیں ہے۔
تاہم انسداد منشیات کے حوالے سے بلیدہ گاؤں میں حال ہی میں سماجی اور معاشرتی سطح پر ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اب نا تو یہاں سرعام منشیات فروخت کرنے والوں کے اڈے ہیں، نا ہی نوجوان نسل کو منشیات باآسانی اور ارزاں نرخوں میں دستیاب ہے اور تو اور وہ افراد جو نشے کی لت میں مبتلا ہو چکے تھے اُن کی صحت کی بحالی کا کام گاؤں ہی کی سماجی تنظیمیں اور سرکاری سطح پر کیا جا رہا ہے۔بلیدہ گاؤں میں آنے والی اس اہم سماجی تبدیلی کی شروعات کا سہرا اس علاقے کی خواتین کے ایک ایسے گروپ کے سر ہے جن کے گھروں اور خاندان کے بیشتر مرد حضرات منشیات کی لت کے شکار ہو چکے تھے۔یہ وہ خواتین ہیں جن کی زندگی صرف اس لیے کٹھن بنی کیونکہ ان کے بیٹے، بھائی، شوہر منشیات کے عادی تھے مگر پھر انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گھمبیر صورتحال میں خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کریں گی۔اسی علاقے کی رہائشی گل بی بی پانچ بیٹوں اور چار بیٹیوں کی ماں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پانچوں بیٹے منشیات کی لت میں مبتلا تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ایک روز ’ایک خاتون نے مجھ سے سوال کیا کہ کب تک ہمارے والد، خاوند، بیٹے منشیات کے ہاتھوں تباہ ہوتے رہیں گے اور ہم مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں ظلم کا شکار ہوتی رہیں گی؟‘
’میں نے پوچھا کہ ہم کیا کر سکتی ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہم باہر نکل کر ان منشیات کے اڈوں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ہم تو ویسے ہی چلتی پھرتی لاشیں ہیں جو بھی ہو گا اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
گل بی بی کا کہنا تھا کہ ’میری اپنی زندگی انتہائی تکلیف دہ تھی، نہ صرف میں نے بلکہ ہمارے علاقے کی کئی خواتین نے اس مہم کا حصہ بن گئیں۔‘
گل بی بی نے بتایا کہ جب خواتین جلوس کی شکل میں باہر نکلیں تو انھیں نہیں پتا کہ خواتین میں اتنی طاقت، جوش اور جذبہ کہاں سے آ گیا تھا کیونکہ اس جلوس نے ہر وہ جگہ جلا کر راکھ کر دی جہاں پر منشیات فروخت ہوتی تھی۔بلیدہ ہی کی ایک اور رہائشی رضیہ بی بی بتاتی ہیں کہ جب نشے کے عادی اُن کے خاوند اور بیٹے نے ان کی بیٹی کی ضرورت کے 300 روپے بھی چھین لیے تو اُسی وقت انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب ان کے علاقے میں یا تو منشیات فروش ہوں گے یا وہ۔
انھوں نے برقعہ پہنا اور ہر اُس گھر گئیں جہاں پر نشے کے عادی مرد موجود تھے اور متاثرہ خواتین سے بات چیت کی۔ اور پھر کچھ عرصے بعد ان متاثرہ خواتین نے مل کر اپنے گاؤں میں موجود منشیات کے تمام اڈے یا تو بند کروائے یا انھیں تباہ کر دیا۔رضیہ بی بی نے بتایا کہ’مجھے اچھے سے یاد ہے کہ جب ہم خواتین باہر نکلیں تو علاقے کے مرد حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ کچھ نے روکنے کی کوشش کی مگر ہمارے تیور اچھے نہیں تھے۔‘خواتین کی جانب سے جلوس کے بعد علاقے کے چند نوجوان خود ہی اکھٹے ہوئے اور مختلف اجلاس منعقد ہوئے جن میں حکمت عملی طے کی گئی۔
’یہ (بلیدہ) کوئی بڑا علاقہ نہیں ہے۔ سب لوگ ایک دوسرے اور منشیات کے کاروبار سے منسلک لوگوں کو اچھے سے جانتے ہیں۔ ہم لوگ جرگے کی شکل میں اُن کے گھروں میں گئے۔ ان لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اس کاروبار کو چھوڑ دیں۔ کئی ایک نے رضاکارانہ طور پر کاروبار ختم کر دیا جبکہ کچھ کو اُن کے گھر کی خواتین نے یہ کام کرنے سے روکا دیا۔‘مقامی طور پر تو منشیات کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں مگر اصل صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی سمگلر مقامی ہینڈلرز کو ان کی خدمات کے عوض انتہائی سستے داموں اور بعض اوقات مفت منشیات فراہم کر دیتے ہیں، جس کے بعد وہ اس منشیات کو مقامی طور پر انتہائی سستے داموں فروخت کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سپلائی لائن مکمل طور پر ختم کیے بغیر بلوچستان میں منشیات کا خاتمہ یا کسی حد تک قابو پانے کا خیال محض خام خیالی ہے۔بین الاقوامی طور پر سمگل کی جانے والی منشیات کا 15 سے 20 فیصد مقامی طور پر استعمال ہوتا ہے۔
’یہی وجہ ہے کہ ہمارے علاقوں میں بچوں کے لیے چاکلیٹ اتنی آسانی سے دستیاب نہیں، جتنی آسانی سے منشیات دستیاب ہوتی ہے۔’جب نشہ اتنا کُھلے عام اور سستا دستیاب ہوگا تو پھر نوجوانوں نے تو تباہ ہونا ہی ہے۔اِس کے خلاف مہم کا آغاز علاقے کی مقامی خواتین نے کیا تھا جس کے بعد اب یہ عوامی مہم بن چکی ہے۔