بھارت پاکستان کے صبر کا امتحان لینا چھوڑ دے، صدر آزاد کشمیر

103

اسلام آباد (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے صبر کا امتحان لینا چھوڑ دے، اگر اس نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی اور قتل عام بند کرکے خطے میں اکھنڈ بھارت بنانے کا زہریلا ایجنڈا ترک نہ کیا تو پاکستان اور آزاد کشمیر عسکری جواب دینے سمیت تمام محاذوں پر اپنی دفاعی پالیسی کو جارحانہ پالیسی میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے جناح انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام کشمیر ویب سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کا قتل عام کرنے اور ان کی لاشوں پر ہندو توا کی سلطنت قائم کرنے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں ورنہ ان کا حشر بھی جنگ عظیم دوئم کے بعد ہٹلر کے ساتھیوں، مسولینی اور یوگو سلاویہ کی جنگ میں جنگی جرائم کے مجرم رتکو ملازو وچ سے مختلف نہیں ہوگا جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں جنگی ٹر بیونل کے سامنے مجرم بن کر پیش ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کو بار بار خبردار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی امن کی خواہش کو کمزوری سمجھ کر خطے کے امن و سلامتی سے کھیلنے کا سلسلہ بند کرے، اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل اب بھی عملی اقدامات اٹھا کر خطے کو جنگ و تباہی سے بچا سکتی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ سلامتی کونسل اپنے 5 مستقل ارکان کے تابع اثر کوئی بھی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ لیکن ہم اس کے باوجود سلامتی کونسل پر مسلسل زور دیتے رہیں گے کہ وہ خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کیلیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنا کردار ادا کرے۔ ’’کشمیر کا مستقبل، کثیر الاقوامی نظام اور علاقائی امن‘‘ کے موضوع پر ہونے والے اس ویب سیمینار سے جناح انسٹیٹیوٹ کی صدر سینیٹر شیریں رحمان، سابق مشیر خارجہ طارق فاطمی، برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین، مقبوضہ جموں و کشمیر کے نامور صحافی افتخار گیلانی، بھارت کے ممتاز تجزیہ نگار سدھیندرہ کلکرنی سمیت کئی دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔