فلسطین عرب ممالک کے باہمی اختلاف میں پھنس گیا

104

 

انٹرنیشنل ڈیسک

مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں اور اس دوران دو عرب رياستوں نے اسرائيل کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر ليے ہيں۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ اس بدلتی ہوئی صورت حال ميں فلسطين تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
امريکی صدر نے 11 ستمبر کی شب بحرين اور اسرائيل کے درميان سفارتی تعلقات قائم کرنے کے فیصلے کا اعلان کيا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائيلی وزير اعظم بنیامین نيتن ياہو اور بحرين کے شاہ حماد بن عيسی الخليفہ کے ساتھ جاری مشترکہ بيان ميں کہا کہ يہ تاريخی معاہدہ مشرق وسطیٰ ميں قيام امن کی راہ ہموار کرے گا۔ متحدہ عرب امارات کی طرح اب بحرین بھی اسرائيل کے ساتھ سفارتی، سلامتی، تجارتی اور ديگر تمام شعبوں ميں تعلقات قائم کر سکے گا۔ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرين اسرائيل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والی دوسری عرب رياست بن گئی ہے جب کہ مصر اور اردن کے پہلے ہی سے تعلقات تھے۔
دوسری جانب اعلیٰ فلسطينی قيادت نے بحرين کے فيصلے کو رياست فلسطين کی پيٹھ ميں خنجر گھونپنے سے تعبير کيا ہے۔ ايران نے بھی بحرين پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بحرين بھی اسرائيلی جرائم ميں حصہ دار ہے۔ ترکی نے بھی اپنے رد عمل ميں بحرين پر تنقيد کی ہے۔
فلسطين سفارتی سطح پر تنہا
گزشتہ ہفتے 22 رکنی عرب ليگ کا اجلاس ہوا، جس ميں فلسطين کی کوشش تھی کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائيل کے مابين طے ہونے والی ڈيل کی مخالفت کی جائے مگر ايسا نہ ہو سکا۔ فلسطين لبريشن آرگنائزيشن کے ايک سابق اعلیٰ اہلکار ساری نصيبہ نے کہا ہے کہ حاليہ پيش رفت سے فلسطينی قيادت کافی نالاں ہے، ليکن وہ عرب ممالک سے پہلے کے مقابلے ميں زيادہ نالاں نہيں۔ فلسطينی ہميشہ ہی سے يہ کہتا آيا ہے کہ عرب ممالک نے ان کا ساتھ اس طرح نہيں ديا جس طرح انہيں دينا چاہيے تھا۔
سياسی تجزيہ کار غسان خاطب کہتے ہيں، کہ اس وقت عرب دنيا ہر قسم کے مسائل سے دوچار ہے۔ خطے کے کئی ملکوں کو مسلح تنازعات، سياسی انقلاب، خانہ جنگی اور کشيدگی کا سامنا ہے اور فلسطينی شہری عرب ممالک ميں تقسيم کی قيمت چکا رہے ہيں۔ايک مغربی سفارتی ذريعے نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ فلسطينيوں کے پاس اور کوئی راستہ ہے بھی نہيں۔ وہ اس ليے بھی پھنس گئے ہيں کيونکہ ان کے حقوق کی بات ترکی اور ايران کر رہے ہيں۔ ايران کے غزہ پٹی ميں متحرک ايسے گروپوں کے ساتھ تعلقات ہيں، جنہيں مغربی ممالک اور اسرائيل جنگجو گروپ قرار ديتے ہيں مثلاً اسلامک جہاد اور حماس۔ اُدھر ترکی بھی فلسطين کی حمايت کرتا ہے اور ترک افواج ليبيا ميں مصر اور متحدہ عرب امارات کی حمايت يافتہ قوتوں کے خلاف برسرپيکار بھی ہيں۔ اس صورت حال میں فلسطینی ’’علاقائی سپر پاور‘‘ کے جھگڑوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ایران کا ساتھ دیں تو سعودی عرب مخالف اور ترکی کے ساتھ چلیں تو کوئی دوسرا ساتھ چھوڑ جائے گا۔