انصاف کا ایک اور امتحان

299

موٹر وے پر لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان ڈاکوئوں کی طرف سے ایک خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کے واقعہ نے جہاں ہر باشعور آدمی کی روح اور دل کو گھائل کیا وہیں یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس دردناک کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ لاہور سے گوجرانوالہ کی سمت موٹروے پر محو سفر تھی کہ گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا۔ خاتون نے اپنے ایک رشتہ دار کو فون کرکے صورت حال سے آگاہ کیا جس نے انہیں کچھ دیر انتظار کرنے کا کہا۔ خاتون گاڑی کے شیشے چڑھا کر بیٹھی کسی مددگار کا انتظار کر رہی تھیں کہ قریبی علاقے سے دوافراد نمودار ہوئے جنہوں نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور تین بچوں کو قریبی جنگل میںمنتقل کیا اور پھر بچوں کے سامنے خاتون کو اجتماعی زیادتی نشانہ بنایا۔ حکومت نے حسب روایت واقعے کا نوٹس لے لیا اور پولیس نے حسب روایت تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دو کام ہر تلخ اور دل خراش واقعے اور حادثے کے بعد ہونا اب معمول ہے۔ اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ حادثے سے بڑا سانحہ ہوتا ہے۔ مظلوم انصاف مانگتے مانگتے تھک جاتا ہے اور انصاف آتے آتے کہیں راستہ ہی بھٹک جاتا ہے۔ مظلوم کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور انصاف کہیں اور گلچھرے اُڑاتا نظر آتا ہے۔ موٹر وے واقعے کے بعد بارہ افراد کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے اور مختلف انداز سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لاہور جیسے شہر کے پہلو میں یہ افسوسناک واقعہ پوری قوم کے لیے شرم اور ندامت کا مقام ہے۔
معاشرہ کبھی بھی درندگی اور وحشت کے جذبات سے خالی نہیں اور پاک نہیں ہوسکتا۔ جرم کو سو فی صد ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ کچھ معاملات کا تعلق انسانی جبلت اور اس کے اندر چھپے حیوانی جذبات سے ہوتا ہے مگر قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی سے اس
وحشت اور درندگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور مہذب کہلانے والے ملکوں میں بھی جرائم ہوتے ہیں اور ان ملکوں میں بھی جہاں قوانین نہ صرف یہ کہ حد درجہ سخت ہیں بلکہ ان پر عمل درآمد میں بھی سختی برتی جارتی ہے۔ یورپ اور امریکا کو اگر ترقی کی مثال قرار دیا جا سکتا ہے تو سعودی عرب جیسے ملکوں کو قوانین کی سختی کا نمونہ کہا جا سکتا ہے مگر یہ معاشرے بھی جرائم سے مکمل آزاد نہیں مگر فرق صرف یہ ہے کہ ان ملکوں میں انصاف اور قانون واقعی اندھے ہوتے ہیں جنہیں ملزم کی کلاس اور نام ونسب اور چہرہ مہرہ دکھائی نہیں دیتا ان کی نظریں صرف قانون کی کتابوں اور نظائر اور کان وکلا کے دلائل اور چالان کی صحت پر مرکوز ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی قانون انصاف نابینا ہوتے ہیں کہ انہیں جرم اور مجرم دکھائی نہیں دیتا، ملزم مجرم قرار پانے کے بجائے آزاد شہری قرار پاتا ہے اور جیل کے گیٹ پر ہی اسے پھولوں کی پتیوں سے لاد کر انصاف کا جنازہ دھوم دھام سے نکالا جاتا ہے۔ باقی دنیا میں مظلوم کو فوری انصاف فراہم ہوتا ہے۔ انسانیت کے خلاف جرم کے معاملے میں برداشت اور سستی اور غفلت کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ اس لیے مجرم کو سزا ملتی ہے اور مظلوم کو
انصاف ملتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے جان جوکھم میں ڈالنا پڑتی ہے۔ اس کے لیے ایک فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈی بنانا پڑتی ہے پھر مظلوم کی حمایت میں سول سوسائٹی کے نام پر ایک منظم مہم چلانا پڑتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بننے والا دبائو پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا تک پھیل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دبائو کے باعث مین اسٹریم میڈیا بھی ایسی مہمات کو قابل اعتنا جانتا ہے اور یوں حکومت اس دبائو کا سامنا نہیں کر سکتی، عدالتوں کے لیے اس صورت حال اور رائے عامہ کے جذبات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہتا پولیس کے پاس پہلو تہی کی گنجائش نہیں رہتی اور یوں عالم مجبوری میں سریع الحرکت انصاف کا آغاز ہوتا ہے۔ اس طرح عوامی دبائو اور جاں گسل جدوجہد کے بعد ’’خوش قسمت‘‘ مظلوم کو انصاف ملتا ہے۔ ہر کیس میں ایسا ہونا ضروری بھی نہیں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ معاملہ اس وقت تک چلتا ہے جب تک میڈیا کی نظر اس پر رہتی ہے جونہی میڈیا کی نظر چوک گئی یا دھیان بٹ گیا تو معاملہ ’’مٹی پائو‘‘ اصول کی نذر ہوجاتا ہے۔ ہماری تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
پاکستان میں اجتماعی زیادتی کے واقعات خطرے کی گھنٹی ہیں۔ یہ اکا دکا واقعات ایک قبیح رسم ورواج بن جانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ بھارت اس کی زندہ مثال ہے جہاں پہلے پہل گینگ ریپ کے واقعات کو عام سا جرم سمجھا جاتا رہا۔ قانون بھی اس جرم سے آنکھیں چراتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ واقعات عام ہوگئے۔ شراب کے نشے میں دھت جتھوں نے خواتین کا گھروں سے نکلنا عذاب بنادیا۔ ایک مقام وہ بھی آیا جب بھارت پر خود اپنے شہری اور میڈیا ’’ ریپستان‘‘ کی پھبتی کسنے لگے۔ اجتماعی زیادتی کے واقعات غیر ملکی اور سیاح عورتوں تک دراز ہوگئے جس سے بھارت کی ناک بیرونی دنیا میں کٹ کر رہ گئی۔ عالمی اداروں اور این جی اوز نے بھارت کو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور خطرناک قرادیا۔ اس ساری بدنامی کے بعد بھارت میں اجتماعی زیادتی کے خلاف سخت قوانین بنانے کا فیصلہ کیا۔ حد تو یہ کہ حال ہی میں بھارت میں ایک چھیاسی سالہ بزرگ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ رپورٹ ہوا اور عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس واقعے پر بھرپور توجہ مرکوز کی۔ بھارت میں 2012 میں گاڑی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی نے حکومت کو اس معاملے پر سخت اقدامات اُٹھانے کی طرف مائل کیا تھا۔ اس واقعے کے مجرموں کو سزائے موت بھی دی گئی اور اب بھی کئی واقعات کا تیزی سے ٹرائل ہو کر سزا پر عمل درآمد کے مراحل آسان ہوگئے ہیں مگر اب بھی بھارت میں ہر پندرہ منٹ کے بعد اجتماعی زیادتی کا ایک کیس رپورٹ ہورہا ہے۔ ابتدائی غفلت سے خرابی کو جو بیج بو دیا گیا ہے اب وہ تناور درخت بن چکا ہے۔ اب معاشرہ اور مجرم ذہنیت قانون کے خوف سے بے نیاز ہو گئی ہے۔ یہ سب سے خطرناک بات ہے۔ جرم رواج بن جائے تو پھر اسے ختم کرنے کے لیے زیادہ محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ موٹر وے کا واقعہ پاکستان کے نظام انصاف اور ریاست کی صلاحیت کا ایک اور لٹمس ٹیسٹ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کوئٹہ کے چوک میں عوام کے درمیان اور سی سی ٹی وی کیمروں کی آنکھ کے آگے ایک ٹریفک پولیس اہلکار کو روند کر گزرجانے والے وڈیرے مجید اچکزئی کی ’’عدم ثبوت‘‘ کی بنا پر رہائی طرح انصاف اس کیس میں راہ سے بھٹک جاتاہے یا پھر اپنا رنگ دکھاتا ہے؟