بیجوں کے پراسرار پیکٹ

291

امریکا نے اپنے شہریوں کو غیر ملکیوں سے بیچ کے پراسرار پیکٹ موصول ہونے کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ تشویش اتنی زیادہ تھی کہ اپنی ای کامرس ویب سائٹ ایمازوں کو غیر ملکی افراد کی جانب سے پودوں کی فروخت پر پابندی لگادی۔ نئی ہدایات کے تحت امریکا میں موجود غیر ملکی افراد بھی امریکا میں کوئی بیج فروخت نہیں کرسکیں گے۔ برطانیہ نے بھی ان پراسرار بیجوں کے پیکٹ سے دور رہنے کی ہدایات جاری کردیں۔ اُن کے خیال میں یہ مقامی ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ محکمہ زراعت ان بیجوں کا باریکی سے معائنہ کررہے ہیں۔ محکمہ زراعت لوگوں کو اس بیج کے بارے میں متنبہ کررہا ہے کہ یہ کسی پودے کی غیر مقامی قسم ہوسکتی ہے جو کسی جراثیم یا وبا کے پھیلائو کی وجہ بن سکتا ہے۔ دیکھیے کہ انہیں ایک ایسے بیج کے بارے میں کتنی تشویش ہے جس کے نتائج کا ابھی علم ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں معاملات کتنی غیر ذمے داری سے نمٹائے جاتے ہیں۔ یہ ایک مثال ہے پنجاب کے ایک کاشت کار کی جو اپنی فصل کے لیے انعام یافتہ تھے۔ یہ فصل کپاس کی تھی۔ انہوں نے چند سال قبل اپنی ایک ایکڑ زمین سے ریکارڈ 96 ٹن کپاس حاصل کی لیکن اس کے محض تین برس بعد اسی زمین سے وہی فصل صرف 8 من ہوئی اور اس کی وجہ ناقص بیج تھے۔ ان ناقص بیجوں نے ایک ایسے کاشت کار کو جو فی ایکڑ سب سے زیادہ کپاس حاصل کرنے والا کسان تھا 3 سال بعد عملاً دانے دانے کو محتاج کردیا۔ ان ہی بیجوں کو استعمال کرنے والے ایک اور کسان پریشان ہیں کہ وہ اپنے پاس کے پودے کے جس پھول کو کھول کر دیکھتے ہیں تو اُس میں سے ایک گلابی سنڈی کیوں برآمد ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے 11 اسپرے کیے لیکن کسی دوائی نے کوئی اثر نہ کیا، پورے پودے میں ایک پتا دکھائی نہیں دیتا سب کیڑے کھا گئے، یہ غیر معیاری اور غیر مصدقہ بیج کے باعث ہوا۔ کپاس کے معیار کے بارے میں کپاس کے کاشت کار اور روئی کے صنعت کار دونوں پریشان ہیں کہ کپاس کا معیار گر رہا ہے اور اس کی بنیادی وجہ غیر تصدیق شدہ بیج ہے۔
کپاس کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے۔ ملک کی 51 فی صد برآمدات کپاس کی مصنوعات پر مبنی ہے۔ اس دفعہ شدید بارشوں سے بھی کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن پچھلے کئی سال میں کپاس کی کم پیداوار کی بڑی وجہ معیاری اور تصدیق شدہ بیج کا نہ پہنچ پانا ہے۔ حالاں کہ اس کے لیے سات سو کمپنیاں کام کررہی ہیں۔ کپاس کے بعد گندم دوسری بڑی فصل ہے جس پر معیشت کا بڑی حد تک انحصار ہے۔ اس وقت گندم کی پاکستان میں بھی کمی ہے جس کی وجہ گندم کی فصل کی متوقع پیداوار میں کمی ہے۔ پاکستان میں محکمہ زراعت دو طرح کا ہے ایک کے آگے کسی کو بولنے کی جرأت نہیں لیکن دوسرا اور حقیقی ادارہ مکمل نیند کے مزے لے رہا ہے۔ نقلی بیج اور نقلی کھاد اور دوائیوں کی کسی کو پڑتال کرنے کی فرصت نہیں۔ ایک مثال تحصیل مہیڑ سندھ کی ہے جہاں فی ایکڑ پچاس سے ساٹھ من چاول اُگتا تھا لیکن نقلی بیج، کھاد اور غیر معیاری دوائوں کے باعث چاولوں کی فصل خراب ہوگئی اور چاول کے بجائے پاپڑی پیدا ہوگئی جس کے باعث کسان فصل کاٹ کر مویشیوں کو کھلارہے ہیں۔ ہزاروں ایکڑ کی فصل خراب ہونے کے باوجود محکمہ زراعت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اس سلسلے میں کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔ کسان اس نقصان کے باعث قرض دار ہوگئے ہیں اور معاشی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ جعلی زرعی ادویات، سبزیوں اور پھلوں پر اسپرے کیے جانے کے باعث شہریوں کی صحت پر بُرے اثرات پڑ رہے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، پاکستان کی جی ڈی پی کا 21 فی صد زراعت پر مشتمل ہے۔ یہ شعبہ ملک کی 44 فی صد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ حکومت کو روزگار اور صحت کے حوالے سے بھی اس پر توجہ دینا ہوگی کیوں کہ یہاں روزگار کے بہتر اور وسیع مواقع پیدا ہونے کی گنجائش موجود ہے۔ کسانوں کی فلاح وبہبود حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم معیاری بیج، کھاد اور ادویات کی فراہمی ہے۔ کسانوں کو بہترین مشاورت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس شعبے میں ریلیف فراہم کرنے سے عام آدمی کو روزگار اور خوراک میں ریلیف مل سکے گا۔ لیکن ساتھ ہی اُن مگرمچھوں کو زیر دام لانا بھی ضروری ہے جو ایک طرف عوام کو اور دوسری طرف کسان کو لوٹ کر اپنے خزانے بھر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت ایسا کرپائے گی؟ جب کہ دائیں بائیں، آگے پیچھے وہی لوگ کھڑے ہیں۔ حکومت کو اس کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے کیوں کہ کسان کی فلاح بہبود اور خوشحالی سے عوام کی فلاح اور خوشحالی جڑی ہے اور یہ ہماری معاشی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔