کیا وکلا کے لیے کوئی قانون نہیں

301

لاہور ہائی کورٹ نے ایک بیوہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ دائر کرنے اور پھر گھر پر قبضہ کرنے والے افراد پر دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ تحریری فیصلے کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ عدالت خاموش تماشائی نہیں، جعلی مقدمات عدلیہ پر ناقابل برادشت بوجھ ہیں۔ انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ عدالت عالیہ نے بیوہ کو گھر پر قبضہ دلوانے کا حکم صادر کردیا ہے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ نظام عدل کے لیے باعث افتخار ہے۔ اور قوم کو یہ یقین دلانے کے لیے ایک مثال ہے کہ نظام عدل ابھی زندہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر عدالتیں مذکورہ فیصلے کو مثال بنائیں گی یا نہیں؟۔ قبل ازیں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی ایک جعلی مقدمہ کی اپیل کی سماعت کے دوران جعلی مقدمات کی شدید مذمت کی تھی۔ مدعی اور اس کے وکیل پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے مقدمہ خارج کردیا تھا۔ مگر اس کے بعد عدلیہ خاموش تماشائی بن گئی۔ ملک بھر کی کسی بھی عدالت میں اس مقدمے کے پیش نظر جعل سازوں کے خلاف کاروائی نہیں کی۔ اور اب لاہور ہائی کورٹ نے ایک قابل فخر فیصلہ سنایا ہے۔ مگر جعلی مقدمہ کی پیروی کرنے والوں کو کیوں نظر انداز کردیا اگر اسے بھی جرمانے کی سزا سنائی جاتی اور دیگر عدالتیں بھی جعل سازوں کی خلاف متحرک ہوجاتیں تو جعلی مقدمات کی روایت اپنی موت آپ مر جاتی۔
ہم ایک مدت سے انہیں کالموں میں گزارش کا سبب کررہے ہیں کہ ججو ں کی کمی مقدمات کی طوالت تو ہے مگر اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ جعلی مقدمات نہ صرف سائلین کی ذہنی اذیت کا سبب بنتے ہیں بلکہ عدلیہ کے بے توقیری کی وجہ بھی بنتے ہیں۔ اگر عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا ہے اور سائلین کو ذہنی اذیت سے نجات دلانا ہے تو جعلی مقدمات کی پیروی اور سماعت کو ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے۔ زیادہ تر مقدمات جعل سازی پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں ہم نے ایک جج سے بات کی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ فائل دیکھتے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ مقدمہ جھوٹا ہے یا سچا۔ ہم نے حیران ہوکر استفسار کیا تھا پھر آپ ایسے مقدمات کی سماعت ہی کیوں کرتے ہیں اصولاً تو ایسے مقدمات پہلی پیشی پر ہی خارج ہوجانا چاہیے جواباً جج صاحب نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھا اس صورت میں میرا بستر میرے سر پر ہوگا۔ کیونکہ وکلا میری عدالت میں پیش ہی نہیں ہوں گے اور بار کونسل میرے تبادلے کا مطالبہ کرے گی اور تبادلہ نہ ہونے کی صور ت میں ہڑتال کی دھمکی دے گی۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میری اولین ذمے داری ہے اور میں ذمے داری میں ہے اس صورت بر ی الذمہ نہیں ہوسکتا۔ البتہ ایسے مقدمات کی پہلی سماعت پر میں وکیل سے کہتا ہوں کہ اس مقدمے میں کچھ نہیں رکھا آپ اپنا مقدمہ واپس لے لیں تو بہتر ہے۔ آپ اپنا، سائل اور عدلیہ کا وقت کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں مگر کوئی بھی وکیل میری بات پر عمل نہیں کرتا۔ یوں جعلی مقدمہ عدالت پر بوجھ بن جاتا ہے۔ کیونکہ پیروی کرنے والا وکیل تاخیری حربوں سے پیشی پر پیشی لیتا رہتا ہے اور عدالتیں رسوا اور بے توقیر ہوتی رہتی ہیں۔ یہ سن کر ہمیں حیرانی کم اور پریشانی زیادہ ہوئی کیونکہ اس پس منظر میں عدالتیں وکلا کی یرغمال دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عدالتیں وکلا کی خانہ زاد کیوں ہوگئیں ہیں یا کیوں بنا دی گئی ہیں۔ بار کونسل نظام عدل میں اتنی دخیل کیسے ہوگئی ہیں کہ جج ان کے یرغمالی بن گئے ہیں۔
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ جج وکلا کے سامنے اتنے بے بس اور لاچار کیوں ہیں وکلا اتنے طاقتور کیسے بن گئے کہ نظام عدل ٹشو پیپر بن کر رہ گیا ہے۔ وکلا ججوں کو ماریں عدالتوں میں توڑ پھوڑ کریں بلکہ جو چاہے کریں قانون ان کے سامنے دس بستہ کھڑا رہتا ہے ہم بارہا انہی کالموں میں کہہ چکے ہیں کہ ملک کا استحکام اور قوم کی خوشحالی عدلیہ کی کارکردگی سے مشروط ہوتی ہے۔ جس ملک کی عدلیہ کمزور ہو وہ ملک کبھی اقوم عالم میں عزت و قار سے دیکھا نہیں جاتا۔ عدالت عظمیٰ جو قانون کی سب سے بڑی محافظ ہے ججوں کے تحفظ کے لیے احکام صادرکرنے سے کیوں قاصر ہے۔ ہم عدالت کے اس رویے کو سمجھنے سے قاصر ہیں سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ نیب جسے چاہے حراست میں لے سکتی ہے اور جتنی مدت چاہے پوچھ گچھ کے بہانے قید میں رکھ سکتی ہے۔ عادل اعظم کے فرمان کے مطابق سرکاری اراضی میں غبن کرنے اور سرکاری پیسے میں فراڈ کرنے والوں کو لمبی رخصت دینے کے بجائے برطرف کردینا چاہیے۔ سیانے کہتے ہیں کہ ہر اچھے کام کی ابتدا اپنے گھر سے کرنا چاہیے کتنا اچھا ہوتا اگر عادل اعظم اپنے ججوں اور جسٹس صاحبان کے غلط فیصلے پر انہیں برطرف کردیتے۔