توہین صحابہؓ پر عوامی ردعمل

285

گزشتہ دنوں پاکستان میں توہین صحابہ کا واقعہ پیش آیا بلکہ اب تو یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ پیش نہیں آیا اور شواہد بھی اسی جانب نشاندہی کر رہے ہیں کروایا گیا ہے اس پر مسلمانوں کارد عمل فطری تھا، لیکن حکومت اس معاملے میں شدید غفلت کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں مسلمانان پاکستان میں۔ ے چینی بڑھ رہی تھی اور اس۔ بات کا خدشہ تھا کہ یہ جذبات تصادم یا تشدد کا رخ اختیار کرلیں گے ، لیکن علماء کرام نے اس معاملے کو سنبھالا اورمعاملے کو تشدد یا لڑائی جھگڑے تک جانے سے قبل اپنے ہاتھ میں لے لیا اس غصے کو پر امن طور پر ظاہر کرنا بھی ضروری تھا اس لیے جمعے کو کراچی سمیت پورے ملک میں علما کمیٹی کے زیر اہتمام مظاہرے ہوے اور ہفتے کو جماعت اہلسنت کے زیر اہتمام مظاہرے ہوئے، اسی طرح اتوار کو اہلحدیث نے مظاہرے کیے کسی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر لوگ ان میں شریک ہوئے اور صحابہ کرام سے اپنی محبت کا اظہار کیا، ان مظاہروں کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ توہین صحابہ کرنے والوں اور ان کے ہمنواؤں کو اندازہ ہوگیا کہ مسلمان اس گئے گزرے دور میں بھی صحابہ کرام سے دلی محبت رکھتے ہیں اور ان کی عزت پر سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں دونوں مکاتب فکر نے اپنے مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں، اب حکومت کی ذمے داری ہے کہ اس مسئلے کو حل کرائے ، علماء کرام اور مسلمانوں کے تمام مسالک کی جانب سے صحابہ کرام سے محبت کا اظہار تو اچھی بات ہے لیکن اس نیک مقصد میں بھی مسلکوں کو الگ الگ الگ رکھنا ضروری نہیں تھا سب ایک دن احتجاج کرتے اور صحابہ کے پرچم تلے کرتے تو اور زیادہ مؤثر ہوتے۔اپنا پرچم تو اپنے پاس رہتا،جہاں تک مسئلے کے حل کا تعلق ہے تو ریاست کولازماً یہ حل کرنا ہوگا ورنہ فرقہ واریت کا جن ایک مرتبہ بے قابو ہو گیا تو اسے بند کرنا مشکل ہو جائے گا ، جلوسوں اور جلسوں جن کو مذہبی جلسے جلوس قرار دینے پر اصرار کیا جاتا ہے ان کو کسی نہ کسی قاعدے قانون کا پابند بنانا حکومت کی ذمے داری ہے۔اگر حکومت اس چھوٹے سے مسئلے پر اپنی رٹ قائم نہیں کر سکتی تو پاکستان کو ریاست مدینہ کا نمونہ کیسے بنائیں گی ؟تقریباً تمام جماعتوں نے گستاخ ممالک سے سفارتی تعلقات توڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کو اس سمت میں تو فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ جبکہ مذہب کے نام پر نکلنے والے جلوسوں پر پابندی یا ان کو محدود کرنا ایسا معاملہ ہے کہ اس پر سب کو قربانی دینا ہوگی۔ یہ ممکن نہیں کہ شیعہ کا جلوس غیر مذہبی اور بریلوی یا دیوبندی کا جلوس مذہبی ہو جائے۔ دین میں جلوسوں کی کیا گنجائش ہے اس پر تمام مکاتب فکر کے علما حکومت کی رہنمائی کریں، مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔