پرانی حلقہ بندیوں پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے، وزیر اعلیٰ سندھ

210

کراچی+ سہون+ بھٹ شاہ (اسٹاف رپورٹر، نمائندگان جسارت) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہپرانی حلقہ بندیوں پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے‘ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہوں گی‘ وفاقی حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو ملبہ دوسروں پر گرا کر اپنی جان چھڑاتی ہے‘ این ایف سی ایورڈ میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جاتے‘ میڈیا نے بارش سے متاثرہ دیہی علاقوں کی مناسب کوریج نہیں کی۔ ہالا میں پریس کانفرنس کے دوران بارش کے بعد کراچی کی خراب صورتحال سے متعلق سوال پوچھنے پر مراد علی شاہ ناراض ہوکر چلے گئے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ 1998ء کی مردم شماری پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکتے۔سہون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے بعد ہوں گے‘ مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہوں گی اور مردم شماری کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) دے گی‘ قانون میں ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی جائیں ‘ حلقہ بندیوں کے بعد قانون کے مطابق 120 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں حالیہ بارش سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کے25 اضلاع میں25 لاکھ سے زاید افراد متاثر ہوئے‘ بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے42 ہزار خیمے فراہم کیے گئے جبکہ متاثرین میں راشن کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے‘ وفاق نے سندھ کے متاثرین کی بحالی کے لیے کوئی عملی مدد کا کام نہیں کیا‘ وفاق کے وعدوں پر اعتبار نہیں‘ این ایف سی ایورڈ میں جو وعدے کیے جاتے ہیں وہ پورے نہیں کیے جاتے۔ وزیر اعلیٰ نے لاہور موٹر وے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کو گرفتار کرکے کڑی سی کڑی سزا دی جائے۔ دریں اثنا ہالا میں سروری جماعت کے روحانی پیشوا پی پی رہنما مرحوم مخدوم امین فہیم کے بیٹے مخدوم عقیل الزماں کے انتقال پر رکن قومی اسمبلی مخدوم جمیل الزماں اور صوبائی وزیر ریونیو مخدوم محبوب الزماں سے اظہار تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری پر فرد جرم عاید کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ انہوں نے پہلے بھی ایسے کیسز کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی کیسز کا مقابلہ کرکے اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈیا نے بارش سے متاثرہ دیہی علاقوں کی مناسب کوریج نہیں کی جس کی وجہ سے سفارتکاروں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کی کیا صورتحال ہے اور ہمیں اس چیز کا علم نہیں ہے کہ میڈیا کے اس عمل کے پیچھے کون سی سازش ہے۔ کراچی کی خراب صورتحال پر وزیر اعلی سند ھ نے پریشان ہوکر کہا کہ کراچی میں صورتحال خراب نہیں ہے کراچی میں لائیٹنگ اور صفائی کے بہتری کے لیے کیا کوششیں کی جارہی ہیں؟ اس سوال پر ناراض ہوکر وزیر اعلی سند ھ چلے گئے۔