عظمت صحابہ ریلی ،مقدس شخصیات کی توہین روکنے کیلیے قانون سازی کامطالبہ

141

کراچی(اسٹاف رپورٹر)علمائے کرام نے کہا ہے کہ مقدس شخصیات کی توہین روکنے کے لیے پارلیمنٹ سے فوری مربوط ’’قانون سازی‘‘ کرائی جائے،پاکستان میں کچھ عناصر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، ہم اپنے اتحاد سے اس سازش کو ناکام بنائیںگے،اسلام امن کا مذہب ہے اور تمام مذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے،کسی بھی سطح پر توہین رسالت،توہین صحابہ اور توہین اہلبیت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، اس کے دفاع کے لیے ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں،ریاست فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے، ہم سب ملک میں ’’مذہبی ہم آہنگی‘‘ کو برقرار رکھنے میں مزید اپنا کردار ادا کریں گے،دین کے تحفظ کے مشن کو جاری رکھاجائے گا۔علمائے کرام نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو اہل حدیث جماعتوں اور اداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم تحریک دفاع صحابہ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام چوک اہل حدیث کورٹ روڈ سے پریس کلب تک ’’عظمت صحابہ ریلی‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ریلی سے مفتی محمد یوسف قصوری، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر (لاہور سے بذریعہ ٹیلی فون)،مولانا محمد سلفی، ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی، مولانا ضیاء الرحمن مدنی، حکیم ناصر منجا کوٹی، مولانا عبد الحنان سامرودی،جے یو آئی( ف) کے قاری محمد عثمان، مولانا داؤد شاکر، مولانا ابراہیم طارق، قاری خلیل الرحمن جاوید، مولانا ضیاء الحق بھٹی، محمد اشرف قریشی،مولانا ابراہیم جونا گڑھی،مولانا شریف حصاروی، مولانا انس مدنی، مولانا عبد الوکیل ناصر، ڈاکٹر فیض الابرار، شیخ ارشد علی، مولانا نصیب شاہ سلفی، مولانا محب اللہ، ایم مزمل صدیقی، ڈاکٹر عامر محمدی، سید عامر نجیب اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر مفتی یوسف قصوری نے کہا کہ ہم محب وطن اور پر امن لوگ ہیں،ہم ناموس رسالت،ناموس صحابہ اور ناموس اہلبیت کے لیے پاکستان کے پرچم کے سائے تلے ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام ریاستی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور دفاع وطن کے لیے ان کی عظیم قربانیوں کے معترف ہیں،ہمیں ان پر اعتماد ہے، ان سے اپیل کرتے ہیں کہ فرقہ واریت کے کیس میں اصل مجرموں پر ہاتھ ڈالیں اور اس مسئلے کا پائیدار حل نکالیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں،ہم سب کا احترام کرتے ہیں،سب کو ہمارا بھی احترام کرنا چاہیے۔علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ ہم ملک میں بھائی چارگی کو فروغ دینے کے لیے اپنا مزید کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقدس شخصیات کی توہین روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ قاری عثمان سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو پھر بھرپور احتجاج کریں گے۔