برطانیہ کا اتفاق رائے کے بغیر یورپی یونین سے نکل جانے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جرمنی

255

برلن:جرمنی نے کہا ہے کہ برطانیہ کا کسی متفقہ معاہدے کے بغیربریگزٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے یورپی یونین سے نکلنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، غیر منظم یا فوری طور پر یورپی یونین سے نکل جانے کے معاشی اور معاشرتی تنازعات کھڑے ہوسکتے ہیں۔

جرمن وزیر خزانہ اولاف شولٹز نے متنبہ کیا ہے کہ بریکسٹ کے بعد تجارت میں کسی معاہدے کی تکمیل نہ ہونے کی ناکامی کا خمیازہ برطانیہ برداشت کرے گا۔

یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین تجارتی مذاکرات پر تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب سے لندن نے اس معاہدے سے واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اس نے ایک نئے قانون کے ذریعے بریگزٹ کے بلاک کے ساتھ کام جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ شمالی آئرلینڈ میں خوراک کی “ناکہ بندی” کی دھمکی دے رہا ہے جس سے برطانیہ میں “امن” اور “اتحاد” کو خطرہ لاحق ہے۔

جانسن نے “ڈیلی ٹیلی گراف” اخبار کے ہفتہ کے شمارے میں لکھا ہے کہ یورپی یونین کی حیثیت سے ان کی حکومت کی طرف سے یورپی یونین سے خارجی معاہدے میں اصلاحات لانے کیلئے نئی قانون سازی پیش کرنے کا جواز پیش کیا گیا ہے،اس قانون سے پارلیمنٹ کے ممبران میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

لندن اور برسلز کے مابین مستقبل کے تجارتی تعلقات پر بات چیت انجام کو پہنچی ہے،اس سال کے آخر تک معاہدے کا امکان دکھائی نہیں دیتا،بورس جانسن نے کہا کہ یورپی یونین شمالی آئرلینڈ سے متعلق قوانین کی انتہا پسندانہ تفیسر پر تلی ہے۔