جماعت اسلامی خواتین کراچی کے تحت مذاکراہ ،عورت کی حفاظت معاشرے کا تحفظ ہے ،شرکاء

69
جماعت اسلامی خواتین کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر’’تحفظ ہمارا حق‘‘ کے عنوان سے مذاکرے کی شرکا ء سے خطاب کررہی ہیں

کراچی (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کے تحت ہفتے کے روزادارہ نورحق میں’’تحفظ ہمارا حق ‘‘ کے عنوان سے مذاکرہ منعقد کیا گیا ، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی نمایاں خواتین نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا ، مذاکرے کی صدارت جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی ناظمہ اسما سفیر نے کی ۔مقررین نے کہاکہ خواتین اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جائے اوروہ تمام عوامل جو معاشرے میں اس گھنائونے کام کو بڑھانے کا سبب ہیں ان کا سد باب کیا جائے۔نیز میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی کو حکومت بزور روکے اور سخت پابندیاں لگائے،عورت کا تحفظ معاشرے کا تحفظ ہے ، معاشرے کا ماحول جرائم کی اصلاح وروک تھام اوررشتوں کے تقدس کا ہونا چاہیے ،اس میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے ،جب تک سوشل میڈیا پر ٹرینڈ نہ بنے جرم کی طرف توجہ مبذول نہیں ہوتی ، صنعتی انقلاب کے
بعد سے عورت کو استعمال کیا جارہا ہے اورمرد کے شانہ بشانہ چلنے کے خواب دکھا کر اسے بہکایا گیا کہ وہ نہ گھر کی رہی اور نہ ہی بچوں کی ،حیا مردوعورت دونوں کے لیے یکساں ہے ،صرف انفرادی عمل ہی نہیں پورے نظام کی تبدیلی کی بھی ضرورت ہے ۔اسما سفیر نے کہاکہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے معاشرے میں حیا کے کلچر کو عام کرنے کی کوششیں کی ہیں ، عورت کا تحفظ معاشرے کا تحفظ ہے ، ہم نے اپنی اقدار کو پس پشت ڈال دیا ہے ،ماؤں کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ذمے داریاں نبھائیںاور بچوں کی بہترین تربیت کریں ۔جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کے لیے کوشاں اورمعاشرے میں درپیش مسائل کے حل کے لیے پیش پیش ہے ۔ثنا علیم نے کہاکہ ہم اپنی اقدار سے دور ہوتے جارہے ہیں،خرابی کوجڑ سے پکڑ نے کی ضرورت ہے ،معاشرتی انحطاط کو روکنے کے لیے حکومت ،مرد و عورت ،معاشرے اور خاندان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔یہ ذمے داری معاشرے کی ہر اکائی ،عدلیہ ،مقننہ ،میڈیا اور تعلیمی ادارے پر عاید ہوتی ہے ،تعلیمی اداروں کے ماحول اور تعلیمی نصاب پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔مذاکرے کے شرکا میں ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ قمر ، ڈاکٹر شمائلہ نعیم، وائس چیئرپرسن صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ عالیہ صارم برنی ، کانٹینٹ ایڈیٹر Rava.pkفہمیدہ یوسفی،معروف سائیکا ٹرسٹ ڈاکٹربنیش ضیا ،پی ایچ ڈی بائیوٹیکنولوجی کراچی یونیورسٹی ڈاکٹر افشین عارف، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ افشاں سلیم،قلمکار و شاعرہ فصاحت نسیم،پروفیسر بحریہ کالج ڈاکٹر سمعیہ شعوانہ، بلاگر سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اسریٰ غوری ،بلاگر طالبہ مومنہ عقیل ،صحافی و قلمکار افشاں مرادو دیگر بھی شامل تھیں۔