ایف اے ٹی ایف پر ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلیے حکومت اور اپوزیشن کا اجاس کل متوقع

59

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان کی جانب سے30 ستمبر کوفنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کو مکمل رپورٹ پیش کرنے سے قبل فیٹف سے متعلق 4 بلوں پر ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے قانون سازوں پر مشتمل غیر رسمی کمیٹی کا اجلاس کل متوقع ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ کمیٹی میں وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور مسلم لیگ (ن)کے محسن شاہنواز رانجھا اور پیپلز پارٹی کے فاروق ایچ نائک اور شیری رحمن شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر 24 رکنی کمیٹی جس کی سربراہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کر رہے ہیں۔حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ان بلوں کو پیش کرنے سے قبل تحریک انصاف کی حکمران ا ور اس کی اتحادی جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کے اراکین بلوں کی جانچ کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے مداخلت کی اور حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کو غیر رسمی گفتگو کرنے پر راضی کیا تاکہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق ضروری قانون سازی کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پاکستان کو 30 ستمبر کو ایف اے ٹی ایف کو مکمل رپورٹ پیش کرنا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ احتساب کا قانون نہیں بلکہ شہری آزادی سے متعلق معاملات ہیں جو معاملے پر پیشرفت میں رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے ممبران اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ 13 بلوں میں سے دوسرے بل اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ(اے ایم ایل اے)، فوجداری کارروائی ضابطہ(سی آر پی سی)اور متروکہ پراپرٹیز اور کوآپریٹو سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم کے بارے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق متروکہ پراپرٹیز اینڈ کوآپریٹو سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بلوں کا تقریبا تصفیہ ہوچکا تھا لیکن اے ایم ایل اے اور سی آر پی سی کے ترمیمی بلوں پر تعطل برقرار تھا۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین سی آر پی سی ترمیمی بل کی حمایت کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ یہ شہریوں کی رازداری میں دخل اندازی کے لیے تفتیشی افسر کو اجازت دینے کے مترادف ہے۔حزب اختلاف بل کی ازسر نو تشکیل کرنا چاہتی ہے تاکہ ‘خفیہ آپریشن، مواصلات میں رکاوٹ پیدا کرنے اور کمپیوٹر سسٹم تک رسائی کی شرائط کی وضاحت ہوسکے اور مجرموں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے خلاف بھی اس کا غلط استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔