شرمناک جرائم میں اضافہ لمحہ فکر ہے، محمد جاید قصوری

66

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل محمد جاوید قصوری نے لاہور کے بعد تونسہ میں بھی خاتون کے ساتھ بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ شرمناک جرائم میں اضافہ لمحہ فکر ہے۔ امن و امان کی ذمے داری براہ راست حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے مگر صوبے میں جنگل کا قانون رائج ہے۔ جماعت اسلامی اجتماعی زیادتی کے دلخراش واقعات کیخلاف آج پورے صوبے میں مظاہرے کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں لاقانونیت کی انتہا ہوچکی ہے جبکہ پولیس کا رویہ بے حسی پر مبنی ہے۔ جماعت اسلامی نے زینب الرٹ بل میں جنسی درندوں کو سزائے موت دینے کی ترمیم پیش کی تھی۔ مگر بد قسمتی سے تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ہی اس قانون کو منظور نہیں ہونے دیا۔ آج ان تینوں جماعتوں کے لوگ قومی میڈیا پر بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو کے بہارہے ہیں۔ قوم ان کے اصلی چہرے دیکھ چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی ریاست بنائیں گے ، کیا یہی وہ فلاحی ریاست ہے جس کا خواب قوم کو دکھایا جارہا تھا۔ اسلامی شرعی قوانین میں صرف اور صرف بھلائی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نظام کو نافذ کیا جائے۔