یونانی پولیس دربدر تارکین وطن پر پل پڑی ، درجنوں زخمی

83
لیسبوسـ: یونانی سیکورٹی فورسز موریا کیمپ کے بے یارومددگار تارکین وطن پر تشدد کررہی ہیں

 

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) یونانی حکام نے جزیرہ لیسبوس کے موریا کیمپ میں آتش زدگی کی ذمے داری قبول کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی شروع کردی۔ ایتھنز حکومت جزیرے پر گنجایش سے زیادہ مہاجرین کو زبردستی رہنے پر مجبور کرکے پہلے ہی تنقید کی زد میں تھی اور اب وہاں آتش زدگی کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کی داد رسی کے بجائے ان پر تشدد شروع کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز لیسبوس میں کسمپرسی کے حالات میں زندگی بسر کرنے والے مہاجرین نے ایتھنز حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران حکام نے پولیس کو مظاہرین پر تشدد کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی،جس کے بعد اہل کاروں نے مہاجرین پر آنسو گیس کی بے دریغ شیلنگ کی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کیمپ میں بڑے پیمانے پر آتش زدگی کے بعد حکومت نے عارضی طور پر بے گھر افراد کے رہنے کے لیے کیمپ بنادیا ہے، کسی طرح بھی 12ہزار افراد کے رہنے کے قابل نہیں ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ نئے کیمپ میں منتقلی بہت جلد شروع ہوجائے گی،تاہم اس دوران شرط رکھی گئی ہے کہ وہی مہاجر نئے کیمپ میں داخلے کا مجاز ہوگا، جس کا کورونا ٹیسٹ ہوگیا ہو۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یونان حکومت انہیں جزیرے پر رکھ کر حیوانوں جیسا سلوک کررہی ہے۔ ہزاروں افراد کے کورونا ٹیسٹ کے لیے طویل وقت درکار ہوگا اور اس دوران مہاجرین کو جلے ہوئے کیمپوں میں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سازش کے تحت ان کے کیمپ میں آگ لگائی،تاکہ وہ نئے کیمپ میں داخلے کے لیے اپنی مرضی کی شرائط منواسکے اور وہاں سے مہاجرین کی تعداد کو کم کردیا جائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر یورپ جانے کی اجازت دی جائے،تاکہ وہ اپنی حالت سدھارسکیں اور آئے دن پولیس کے تشدد اور رہایش سے متعلق غیر یقینی حالات سے پیچھا چھٹ جائے۔