اسلاموفوبیا کی ہنڈیا میں نیا اُبال

598

مغرب میں ایک بار پھر اسلامو فوبیا کا جن بوتل سے باہر آکر چہار سو دندناتا پھرتا ہے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ مغرب میں یہ جن کبھی بوتل میں بند ہی نہیں ہوا بلکہ یہ مسلمانوں کو ذہنی اور جسمانی اذیت پہنچانے کے لیے ہمیشہ آزاد رہا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کبھی اس کی تشہیر ہوتی رہی تو کبھی اس پر اخفاء کا پردہ پڑا رہا۔ یہ پردہ سرک جائے تو مغرب کا اسلامو فوبیا برہنہ حالت میں دنیا کے سامنے آتا ہے۔ نائن الیون کے بعد اس عارضے نے ایک وبا کی شکل اختیار کرلی کیونکہ اسلام کو بدنام کرنا اور مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ بریکٹ کرنا مغرب کی ریاستی پالیسی بن گئی اگر یہ ریاستی پالیسی نہیں بھی تھی تو حکومتوں نے جم کر اس کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے لیے ان کے پاس آزادی ٔ اظہار کا گھڑا گھڑایا بہانہ موجود تھا۔ اسلامک ٹیررسٹ اور مسلم ٹیررسٹ کی جو اصطلاحات نائن الیون کے بعد مغربی میڈیا نے بے دردی سے استعمال کیں اس نے اسلامو فوبیا کے اثرات مغربی ذہنوں میں پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نائن الیون کے فوراً بعد جن مغربی ملکوں میں مسلمان آبادی کے بڑھنے پر اعتراضات اُٹھائے گئے تھے ان میں اسلاموفوبیا کو ایک منظم انداز میں ہوا دی گئی۔ فرانس ان میں سرفہرست تھا جہاں الجزائری مسلمان بہت تیزی سے ریاست میں سرایت کررہے تھے۔ الجزائر چونکہ فرانس کا غلام رہا تھا اس لیے دونوں معاشروں میں قریبی ربط وتعلق مدتوں قائم رہا۔ اسی تعلق کی وجہ سے فرانسیسی معاشرے پر الجزائری نژاد باشندوں کا اثر رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ نائن الیون کے بعد ایک مصری نژاد یہودی دانشور خاتون نے امریکی اخبار میں لکھے گئے ایک طویل مضمون میں یورپ کے یوریبیا یعنی عرب کلچر کے غلبے کا شکار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اس خاتون نے خبردار کیا تھا کہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یورپی باشندے مسلمان حاکموں کے ’’ذمی‘‘ بننے اور انہیں ’’جذیہ‘‘ دینے کی تیاری شروع کردیں۔
مغربی میڈیا میں یہ سوچ شدت سے اُبھری اگر عرب اور مسلمان دنیا سے آبادی کا انخلا اسی انداز سے جاری رہا تو یورپ کچھ عرصہ بعد مسلمان اکثریتی معاشرہ بن جائے گا اور اس کا مطلب مغرب سے فرد کی آزادی، ترقی، روشن خیالی، معاشی خود کفالت سمیت ایک پورے کلچر کا خاتمہ ہوگا۔ اس انداز کی ذہن سازی نے مغرب میں جنونیوں کی ایک فوج تیار کر لی ہے۔ آزادی اظہار کی جو نیلم پری مغرب نے ہولو کاسٹ سمیت بہت سے معاملات میں خود مغرب نے مقید اور محدود کر رکھی ہے اس کو مسلمانوں کے آنگن میں رقص کرانے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ چند دن قبل ڈنمارک میں ایک سفید فام فاشسٹ نے بھرے بازار میں قرآن پاک کو نذر آتش کیا۔ اس واقعے کی وائرل ہونے والی وڈیو کو دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ سفید فام جنونی پورے اطمینان سے ایک پبلک مقام پر آیا قرآن پاک کو زمین پر رکھا تیل چھڑک کر آگ لگائی اور اس دوران وہ مسلمانوں، اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا رہا۔ قریب کھڑے کچھ لوگ اس سے بحث کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر سفید فام شخص اپنے حلیے اور رویے سے پاگل اور خوں خوار دکھائی دیتا تھا۔ وڈیو میں صاف نظر آرہا ہے کہ اس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمان نوجوانوں نے اس سے بحث تک محدود رہنے ہی میں عافیت محسوس کی۔ اب بدنام زمانہ فرانسیسی میگزین ’’چارلی ہیبڈو‘‘ نے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے شائع کرنا شروع کیے ہیں۔ چارلی ہیبڈو نے 2015 میں گستاخانہ خاکے جاری کیے تھے۔ جس پر عالمگیر سطح پر مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا۔ اس مذموم حرکت نے مسلمانوں کو غصے اور اشتعال سے بھر دیا تھا اور اس کے نتیجے میں میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا تھا جس میں کچھ کارٹونسٹس سمیت بار ہ افراد مارے گئے تھے۔ اس کے کچھ ہی دن بعد پیرس میں ایک اور حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں کے الزام میں فرانسیسی حکومت نے جن افراد کو گرفتار کر رکھا ہے ان کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہونے کے موقع پر میگزین نے پرانے خاکے دوبارہ شائع کیے ہیں۔ کیپشن میں لکھا گیا ہے ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔
یہ خاکے 2005 میں سب سے پہلے ڈینش اخبار گیلینڈ پوسٹن نے شائع کیے تھے۔ ایک سال بعد یہی خاکے فرانسیسی اخبار نے بھی شائع کیے اور اب برسوں بعد یہ خاکے دوبارہ شائع کیے جارہے ہیں۔ مغرب میں یہ سب کچھ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے نام پر ہو رہا ہے۔ اسی لیے وہاں کے قوانین بھی ان مذموم حرکات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور حکومتیں اپنی بے بسی کا رونا روتی ہیں۔ حقیقت میں یہ آزادی ٔ اظہار کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کو چھیڑنے اس کی توہین کرنے اور اسے ردعمل اور غصے کا شکار بنا کر فساد پیدا کرنے کی منظم اور سوچی سمجھی اسکیم ہے۔ جس کا پہلا مقصد سکتے کے مریض کا امتحان لینے کے لیے اس کے منہ پر آئینہ رکھنے جیسا ہے۔ آئینہ اگر دھندلا ہوجائے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ سانس چل رہی ہے اور مریض میں زندگی کی رمق باقی ہے۔ اس طرح کے آثار نظر نہ آنا مریض کی موت واقع ہوجانے کا اعلان ہوتا ہے۔ مغربی محققین اور مستشرقین بخوبی جانتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں پیغمبر اسلام کا مقام کیا ہے اور مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کا میعار کیا ہے ؟ عقیدت اور محبت کے اس فلک بوس مینار پر وقفوں سے سنگ باری کرکے حقیقت میں یہ امتحان لیتے ہیں کہ مسلمان معاشرہ غیرت ایمانی کے کس مقام اور معیار پر موجود ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو سیدنا عیسیٰؑ کو خدا، خدا کا بیٹا اور نجانے کیا کچھ بھی کہتا ہے مگر فلموں میں ان کا مذاق اُڑا کر اہانت رسول و پیغمبر کا ارتکاب بھی کرتا ہے اور اس قبیح فعل کو آزادیوں کے پردے کے پیچھے چھپاتا ہے۔ یوں تو ایسے معاشرے سے گلہ بے سود ہے مگر معاملہ غیرت و حمیت کا ہو تو پھر ردعمل دکھانا لازمی ہوتا ہے۔
پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرکے مغربی معاشرہ اور نام نہاد دانشور طبقہ حقیقت میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کی غیرت وحمیت کا امتحان لیتا ہے وہیں مغربی معاشروں میں اسلام کے پھیلائو کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ یہ ایک منظم مہم ہے اور اس کے پیچھے سفید فام فاشسٹ رویے اور صلیبی جنگوں کی یادیں ہیں۔ اسلامو فوبیا کے اس عارضے نے جنوبی افریقا کے واقعے کی شکل اختیار کی تھی۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اس ذہنیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اسی عالمی فورم پر نفرت کی ان لہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا مگر ایک سال ہوگیا یہ ذہن پوری طرح دندناتا پھر رہا ہے۔ اس فتین اور مفسد ذہن کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سطح پر قوانین کی تیاری اور عمل درآمد کی پالیسی بننا لازمی ہے وگرنہ یہ جنونیت دنیا کو یونہی مضطرب اور فساد کا شکار کرتی رہے گی۔