موٹروے زیادتی کیس: درندوں کی نشاندہی ہوگئی، گرفتاری پر 25لاکھ روپے انعام

137

لاہور(نمائندہ جسارت)موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس کے درندوں کی نشاندہی ہو گئی۔ گرفتاری پر 25 لاکھ انعام مقرر۔تفصیلات کے مطابق موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جب کہ دوسرے ملزم کی بھی شناخت ہوگئی ہے۔پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں ملوث دونوں ملزمان کا سراغ لگا لیا ہے۔ مرکزی ملزم عابد علی ولد اکبر علی کے ڈی این اے میچ کیے جانے کی تصدیق کے بعد اب دوسرے ملزم کو بھی شناخت کرلیا گیا ہے۔ دوسرے ملزم کی وقار الحسن شاہ کے نام سے شناخت ہوئی ہے۔عابد اور وقار نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں دوران ڈکیتی اور زیادتی کی وارداتیں کی ہیں۔زیادتی کا شکار خاتون کے نمونے جرائم پیشہ افراد کے ڈیٹا بیس میں پہلے سے موجود ملزم کے ریکارڈ سے میچ ہوئے۔ کرمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی کا ریکارڈ 2013 سے موجود تھا۔عابد اشتہاری مجرم ہے اور اس کی وارداتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ملزم کی عمر 27 سال اور تاریخ پیدائش 22 مئی 1993 ہے۔عابد علی نے 2013 میں بھی فورٹ عباس میں چار ساتھیوں کے ساتھ ایک گھر میں گھس کر ڈکیتی کی اور اسلحہ کے زور پر ماں بیٹی سے اجتماعی زیادتی کی تھی جس کا مقدمہ فورٹ عباس میں درج کیا گیا تھا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ڈی این اے میچ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور پوری پولیس ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے میچ کرگیا، انشاللہ جلد ملزم کی گرفتاری بھی ہوگی، ہمارا کام بولتا ہے الفاظ نہیں۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدا رنے کہا ہے کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔یقین دلاتا ہوں کہ ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے،صوبائی وزیر قانون راجا بشارت، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور آئی جی پنجاب انعام غنی کیساتھ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب کا کہنا تھا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ جن درندوں نے یہ ظلم کیا ہے وہ بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے اور انہیں قانون کے مطابق قرارواقعی سزا دی جائے گی ۔میری کچھ دیر قبل متاثرہ خاتون سے بھی رابطہ ہوا اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کروائی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہمارے پولیس آفیسرز مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہیں جن ملزمان کی شناخت ہوئی ان کی گرفتاری میں مدد دینے والے افراد کیلیے25,25 لاکھ روپے انعام دینے کا بھی اعلان کیا جارہا ہے اور اطلاع دینے والے کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے متاثرہ خاتون سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے وزیر اعلی نے کہا کہ ‘آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کو نامناسب بیان پر شوکاز نوٹس دیا ہے، سی سی پی او سے 7 روز میں جواب مانگا گیا ہے اور جواب پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہاکہ واقعہ کے فوراً بعد مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی تھیں ۔ گزشتہ رات تقریباً 12 بجے کے قریب سائنٹیفک شواہد کے ساتھ کنفرم ہوا کہ بہاولنگر فورٹ عباس کا رہنے والا ملزم عابد علی کا ڈی این اے جائے وقوع سے ملنے والے شواہد سے میچ کرگیا ہے۔ ملزم عابد علی کے ٹیلی فون سے اس کے ساتھی تک بھی پہنچ گئے ہیں وقوع سے لے کر ملزمان کو ٹریس کرنے تک پولیس نے انتہائی جدید طریقوں سے تحقیقات کیں ۔ملزم عابد کے نام موبائل ٹیلی فون کی 4سمیں تھیں لیکن وہ انہیں استعمال نہیں کر رہا تھا، ملزم عابد کا ایک اور نمبر ملا جس کی مدد سے دوسرے ملز م وقار الحسن کا بھی سراغ ملا جو کہ ملزم عابد کا ساتھی ہے۔ بہاولنگر سے تعلق رکھنے والا عابد نامی جس کی عمر27سال ہے جو پہلے سے ہی اشتہاری ہے ، ملزم 2013میں ڈکیتی میں ماں بیٹی سے زیادتی سمیت کئی وارداتوں میں ملوث ہے ، دوسرے ملزم وقار کا بھی پہلے سے کرمنل ریکارڈ ہے ، ملزم عابد کے خلاف 2014میں چار مقدمات تھانہ کچی میں درج ہیں۔ ملزم عابد علی کا شناختی کارڈ حاصل کیاگیا۔ جب پولیس ٹیم اس کے ڈیرے تک پہنچی تو ملزم اور اس کی بیوی کھیتوں میں فرار ہوگئے جبکہ عابد علی ملہی کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے، دوسرے ملزم کا نام وقار الحسن ہے جو قلعہ ستار شاہ ضلع شیخوپورہ کا رہائشی ہے جب پولیس نے وہاں ریڈ کیا تو وہ بھی وہاں سے فرار ہوچکا تھا اس وقت ہمارے پاس دونوں ملزمان کا تمام ریکارڈ موجود ہے ہم ان کے پیچھے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ ملزمان کی گرفتاری میں پولیس کی مدد کریں جہاں پربھی ان کی اطلاع ملتی ہے 15 پر اطلاع کریں یہ بھی درخواست ہے کہ 15 کو غیر ضروری ٹیلی فون سے پریشان نہ کریں ۔ موقع پر آئی جی پنجاب انعام غنی نے مرکزی ملزم عابدعلی، وقارالحسن کی تصاویر میڈیا کو پیش کر دیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزم عابد علی پر2013 سے 2017 تک زیادتی اور ڈکیتی سمیت دیگر جرائم کے 8 پرچے کٹے اور 8 سال میں کئی مرتبہ گرفتار ہوا مگر ضمانت پر رہا ہوگیا۔عابد آخری بار 8 اگست 2020 کو گرفتار ہوا مگر چند دنوں بعد ہی ضمانت ہوگئی۔دوسرا ملزم وقار الحسن بھی ڈکیتی کی 2 وارداتوں میں ملوث نکلا اور دو ہفتے قبل ہی ضمانت پر رہا ہوا تھا۔