کھانا ڈیلیوری سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں

215

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن ( اپرا) نے کھانے کی ڈیلیوری دینے والی کمپنیوں کی من مانیوں پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوڈ پانڈا نے آئے دن کمیشن میں اضافے کے لیے ریسٹورنٹس کو بلیک میل کرنا معمول بنا لیا ہے جس کاوزیراعظم عمران خان فوری طور پر نوٹس لیں اور کھانا ڈیلیوری کرنے والی کمپنیوں کے لیے سرکاری سطح پرپالیسی وضع کی جائے تاکہ اس شعبے میںکسی قسم کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جاسکے۔اپیرا نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان کی توجہ ریسٹورنٹس انڈسٹری کودرپیش اہم مسئلے پر مبذول کرواتے ہوئے کہاکہ ریسٹورنٹس انڈسڑی10سے12فیصد منافع پر کام کرتی ہے اس کے باوجود کھانا ڈیلیوری پر فوڈپانڈا کو 18فیصد کمیشن دیا جاتا ہے اس کے باوجود فوڈ پانڈا کی من مانیاں دن بدن برھتی ہی جارہی ہیں اور وہ آئے دن ریسٹورنٹس پر دبا ؤ بڑھا کراپنے کمیشن میں اضافے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اوراب تو ان کی بلیک میلنگ اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ انہوں نے ریسٹورنٹس انڈسٹری کو دھمکی دی ہے کہ اگران کا ڈیلیوری کمیشن25فیصد سے 30فیصدنہ کیا گیا تھا وہ کھانے کی ڈیلیوری بند کردیں گے ۔ایپرا کا کہناتھا کہ کھانا ڈیلیوری کرنے والی کمپنیاں ریسٹورنٹس کے ساتھ کیے جانے والے کسی معاہدے پر عمل نہیں کرتیں اور ریسٹورنٹس کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رائیڈرز کو فارغ کردیں اور صرف ان کمپنیوں کے رائیڈرز کھانے کی ڈیلیوری دیں گے جس سے بڑی تعداد میں رائیڈرز بے روزگار ہوگئے ہیں اس کے علاوہ یہ کمپنیاں کسٹمرز کا ڈیٹا بھی لے جاتی ہیں اور پھر من پسند ریسٹورنٹس کو وہ آرڈر منتقل کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ریسٹورنٹس مالکان تنگ آگئے ہیںاور یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ فوڈ پانڈا جیسی کمپنیوں کے ساتھ کام نہ کیا جائے۔ایپرا نے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی کہ وہ کھانا ڈیلیوری سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کریں۔