جھڈو، متاثرین سیلاب جھوٹی تسلیوں اور وعدوں سے مایوس ہوگئے

28

جھڈو (نمائندہ جسارت) متاثرین حکومتی امدادی سرگرمیوں سے غیر مطمئن اور سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے والے سیاسی رہنمائوں، وزراء کی جھوٹی تسلیوں اور وعدوں سے شدید مایوس ہوگئے ہیں۔ مرکزی و رابطہ سڑکوں کے کنارے آسمان تلے پناہ لیے بے یارو مددگار متاثرین سیلاب حکومت کی جانب سے انتہائی محدود پیمانے پر جاری امدادی سرگرمیوں سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہیں۔ متاثرین کی بہت بڑی تعداد خیموں، صاف پانی، کھانے اور صحت جیسی بنیادی سہولت سے محروم تاحال محروم ہے۔ دیہہ 264، سائیں داد علیانی، روشن آباد، گوٹھ علی نواز شاہ کے متاثرین سیلاب نے شکوہ کیا ہے کہ حکومتی و سرکاری سطح پر امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، متاثرین کی اکثریت امدادی سامان کے لیے ترس رہی ہے۔ امدادی سامان کی تقسیم میں سفارش اور سیاسی وابستگی کو ترجیح دی جارہی ہے، جبکہ حقیقی متاثرین نے ابھی تک خیموں، راشن سمیت امدادی سامان کی شکل تک نہیں دیکھی۔ متاثرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ، بلاول زرداری پی ٹی آئی کے صوبائی رہنماء حلیم عادل شیخ، ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی اور ڈسٹرکٹ کمیٹی کے اراکین دورہ کرچکے ہیں لیکن سب نے زبانی جمع خرچ سے کام لیا، جھوٹے وعدوں اور تسلیوں پر ٹرخایا، فوٹو سیشن کیا اور چلتے بنے، متاثرین کے لیے حکومتی وزراء، پارٹی لیڈران اور دورہ کرنے والے رہنماؤں نے عملی طور پر ابھی تک کچھ نہیں کیا، جس سے متاثرین میں شدید مایوس پائی جاتی ہے۔