سندھ ہائیکورٹ کا الیکشن کمیشن کو 120 یوم میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم،

73

 

کراچی (نمائندہ جسارت)سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں جلد نئے بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو سندھ میں چار ماہ 120 یوم میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں2رکنی بنچ نے سندھ میں جلد نئے بلدیاتی انتخابات کرا نے سے متعلق شہری محمود اختر نقوی کی جانب سے دائر درخواست میں اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ا لیکشن کمیشن سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013پر عمل درآمد یقینی بنائے ۔عدالت کا اپنے تحریری حکمنامے میں مزید کہنا تھا کہ دوران سماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کی مدت 30اگست کو مکمل ہوچکی ہے اور سندھ میں ایڈمنسٹریٹر ز کی مدت کا تعین ہوگیا ہے جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ نئی مردم شماری کے بعد نشستیں بڑھنے اور کم ہونے کے چانسز ہیں اور بلدیاتی نمائندوں کی مدت ختم ہونے کے بعد سندھ بھر میں ایڈمنسٹریٹر تعینات ہوگئے ہیں۔
دخواست گزار نے چیف سیکرٹری سندھ، چیف الیکشن کمشنر، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، صوبائی الیکشن کمشنر صوبہ سندھ، سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری وزارت خزانہ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ بلدیاتی نظام اپنا 4 سالہ دور مدت پوری کرچکا ہے۔ سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق کوئی بھی تیاری نہیں کی۔ لہٰذا استدعا ہے کہ سندھ میںنئے بلدیاتی انتخابات وقت پر کروائے جائیں۔علاوہ ازیںسندھ ہائیکورٹ میںنئی حلقہ بندیوں کے لیے صوبائی الیکشن کمیشن کی جانب سے کمیٹی میں اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دیگر کو شامل کرنے کے حوالے درخواست کی سماعت ہوئی۔ مردم شماری کے حتمی نتائج کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ۔جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کی وجہ سے پورا کام رک گیا ہے،یہ لوگ مردم شماری کے نتائج دبا کر بیٹھ گئے ہیں،حتمی نتائج جاری نہ کرنے کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات رکے ہوئے ہیں تو کیا رکے رہیں؟ اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری کے نتائج کا اعلان ہونا ضروری ہے،مردم شماری کے نتائج کے لیے وزیر اعظم ،قومی اسمبلی اور دیگر کو خطوط بھی لکھ چکے ہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے نتائج کا اعلان تو کردیا گیا ہے نوٹیفکیشن ہونا باقی ہے۔سندھ حکومت الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت سے تعاون نہیں کررہی،عدالت کا کہنا تھا کہ سی سی آئی کوحتمی نتائج جاری کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے تفصیلات طلب کیں ، عدالت نے سی سی آئی کے اجلاس اور مردم شماری کے نتائج سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی ۔ ایم کیوایم رہنما عامر خان کنور نوید جمیل اور مئیر کراچی وسیم اختر کی جانب سے درخواست دائر کررکھی ہے،ایم کیوایم پاکستان نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا،الیکشن کمیشن نے اپنے نوٹی فکیشن میں حلقہ بندیوں کے لیے ڈپٹی کمشنر اسسٹنٹ کمشنر کو شامل کیا تھا ،2013 میں حلقہ بندیوں کا طریقہ طے ہوچکا ہے،الیکشن کمیشن کا حلقہ بندیوں کے لیے کمیٹی تشکیل دینا غیر قانونی ہے، جو حلقہ بندیاں ہوچکی ہیں ان کی رپورٹ بھی تاحال پبلک نہیں کی گئی،حلقہ بندیوں سے متعلق کمیٹی بلدیاتی انتخابات میں بھی اثر انداز ہوگی، الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے