ٹرمپ اور جوبائیڈن کی انتخابی مہم پر سائبر حملے

91
امریکا: صدر ٹرمپ مشی گن میں اپنے حامیوں سے خطاب کررہے ہیں‘ جوبائیڈن نیو یارک میں مائیک پنس سے ہاتھ ملا رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں نومبر کے مہینے میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کے سیاسی حریف جو بائیڈن کی انتخابی مہم سائبر حملوں کا نشانہ بننا شروع ہوگئی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ روس، چین اور ایران سے تعلق رکھنے والے ہیکر صدر ٹرمپ اور صدارتی امیدوار جو بائیڈن سے تعلق رکھنے والے افراد کی جاسوسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کی صدارتی مہم کے مشاورتی اداروں کو مائیکروسافٹ نے خبردار کیا ہے کہ جن ہیکروں نے 2016ء میں امریکی انتخابات کے دوران سائبر حملے کیے تھے، وہ اب دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ کے دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے مشیر دنیا بھر میں ڈیجیٹل جاسوسوں کے نشانے پر ہیں۔ اُدھر مائیکروسافٹ کی کسٹمر سیکورٹی کے نائب صدر ٹام برٹ نے کہا ہے کہ جس گروپ پر 2016ء میں ہیلری کلنٹن کی ای میلز ہیک کرنے کا الزام ہے، اس کا تعلق روسی ملٹری انٹیلی جنس سے بتایا جاتا ہے اور اسے فینسی بئیر کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ گروپ گزشتہ ایک برس سے ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاسی مشیروں، ان کے تشہیری اداروں اور تھنک ٹینکس کے اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹام برٹ نے مزید کہا کہ چین کے ہیکرز ایسے افراد پر سائبر حملے کر رہے ہیں جو امریکی صدارتی انتخاب میں امیدواروں کی مہمات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ نے جن ایرانی ہیکروں کی پہلے سے نشاندہی کی تھی وہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام اور ان کی انتخابی مہم کے ارکان پر سائبر حملے کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ نے ان سیاسی مشیروں کے نام نہیں بتائے جن کے اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم ٹام برٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کے ہیکرز کے جو بائیڈن کے ساتھیوں اور ایران کے جاسوسوں کے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ارکان پر سائبر حملے ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا 2020ء کی صدارتی انتخابی پر غیر ملکی ہیکروں کے حملے اسی طرح بڑھ گئے ہیں جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔