روہنگیا نسل کشی پر سوچی یورپی اعزاز سے محروم

108

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی پارلیمان نے میانمر کی نام نہاد جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کو انسانی حقوق اور آزادی فکر کا ’’سخاروف انعام‘‘ جیتنے والوں کی فہرست سے خارج کر دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق یورپی پارلیمان کے مطابق یہ فیصلہ میانمر میں جمہوریت کے لیے عملی اقدامات میں ناکامی اور روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری جرائم کو روا رکھنے کے رد عمل میں کیا گیا ہے، تاہم ان سے یہ انعام واپس نہیں لیا گیا۔ آنگ سان سوچی کو اس اعزاز سے1990ء کے دوران برما میں جمہوریت کے لیے پُرامن جدوجہد کے نتیجے میں نوازا گیا تھا۔ یورپی پارلیمان کے فیصلے کے بعد وہ انعام یافتہ افراد کی تقاریب میں حصہ نہیں لیں گی۔ پارلیمان کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا کہ آنگ سان سوچی کے کام پر انہیں انعام دیا گیا تھااور ضابطے کے مطابق اسے واپس نہیں لیا جاسکتا ہے، تاہم فہرست سے ان کا اخراج انعام یافتگان کے لیے سب سے بڑی پابندی ہے۔ یورپی پارلیمان کے اسپیکر اور گروپ رہنماؤں کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ سوچی کی عملی اقدامات میں ناکامی اور میانمر میں روہنگیا برادری کے خلاف جاری جرائم کو قبول کرنے پر ردعمل میں تھا۔ میانمر میں روہنگیا مسلمان اقلیت کے ساتھ طویل عرصے سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ 2017ء میں 8 لاکھ سے زائد روہنگیا باشندے فوجی آپریشن سے بچنے کے لیے بنگلادیش ہجرت کرگئے تھے۔ فوجی آمریت کے خاتمے کے لیے برسوں جدوجہد کرنے والی سابق سیاسی قیدی آنگ سان سو چی اس وقت میانمر کی سب سے طاقتور سیاسی رہنما ہیں۔ انہیں آزادی کی علمبردار کی حیثیت سے پوری دنیا میں اعزازات سے نوازا گیا تھا، تاہم انہوں نے اقتدار ملنے پر اس کے برعکس روہنگیا اقلیت کی نسل کشی پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔ واضح رہے کہ میانمر میں روہنگیا ہر طرح کی شناخت اور آزادی سے بھی محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی پارلیمان کے اس فیصلے پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق تنظیمیں ماضی میں مختلف فورمز پر آنگ سان سوچی کو ملنے والے اعزازات اور انعامات پر سوالات اٹھاتی رہی اور ان کی واپسی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔