ترک یونانی وفود کی ملاقات میں اختلافی نکات پر غور

89
کورسیکا: مالٹا، اسپین، قبرص، فرانس، اٹلی اور یونان کے سربراہ ترکی کے خلاف سرجوڑے بیٹھے ہیں

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی اور یونان کے مابین جاری تنازع کے سلسلے میں دونوں ممالک کے عسکری وفود کی ملاقات نیٹو ہیڈ کوارٹرز میں ہوئی، جس میں اختلافی نکات پر غور کے علاوہ خطے کو کسی بھی محاذ آرائی سے روکنے سے متعلق تدابیر اور لائحہ عمل پر تبادلہ خیال ہوا۔ ترک وزارت دفاع کے مطابق آیندہ چند روز میں اسی قسم کے ایک اور اجلاس کا انعقاد متوقع ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو آج قبرص کا دورہ کریں گے، جس کا مقصد بحیرہ روم کے علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک پرامن حل تک پہنچنے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل پومپیو نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فوج متنازع علاقے سے ہٹا لے۔اُدھر یورپی یونین نے ترکی کو دھمکی دی ہے کہ وہ یونان اور قبرص کے ساتھ گیس کے تنازع کو حل کرے، ورنہ اسے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یونین کے 7 رکن ممالک نے کہا ہے کہ 24 اور 25 ستمبر کو ہونے والے سربراہ اجلاس میں پابندیوں کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔ دریں اثنا ترک صدر رجب طیب اِردوان نے کہا ہے کہ ہم کسی کا ترنوالہ نہیں بن سکتے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انہوں نے اپنے پیغام میں دو ٹوک موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں ہڑپ نہیں کر سکیں گے۔ ترک صدر نے ایک پرانی وڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بھیڑیے کا دسترخوان سجا رکھا ہے، اور اس پر آپ ہمیں ہڑپ کرنا چاہتے ہیں، تاہم آپ کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ہمارا نوالہ آپ کے منہ میں نہیں سما سکتا۔