فرانس نے لبنانی حکام پر پابندیوں کا امکان ظاہر کردیا

98

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانس کا کہنا ہے کہ لبنان میں نئی حکومت تشکیل دینے کی کوششوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کوئی ناقابل قبول صورت حال درپیش آئی تو لبنانی عہدے داروں کے خلاف پابندیوں کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عرب ٹی وی کے مطابق فرانسیسی صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی تشکیل کے لیے مثبت بات چیت ہوتی ہے تو ہم فیصلے میں جلد بازی نہیں کریں گے۔ ذرائع نے لبنانی میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ صدر عمانویل ماکروں نے دسمبر میں طے بیروت کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ اُدھر ایک لبنانی عہدے دار نے کہا ہے کہ پیرس میں ایک سینئر سیکورٹی اہل کار نے فرانسیسی انٹیلی جنس کے سربراہ برنارڈ ایمی کے ساتھ لبنانی حکومت کی تشکیل سے متعلق بات چیت کی ہے۔ واضح رہے کہ لبنان میں آیندہ ہفتے نئی حکومت کی تشکیل متوقع ہے۔ یکم ستمبر کو صدر عمانویل ماکروں نے بیروت کے دورے کے دوران کہا تھا کہ لبنانی رہ نماؤں نے 2 ہفتوں میں حکومت بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکام نے کہا ہے کہ دارالحکومت بیروت کی بندر گاہ پر جمعرات کے روز لگنے والی ہول ناک آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ آتش زدگی کا تازہ واقعہ بندر گاہ پر امونیم نائٹریٹ کے گودام میں تباہ کن دھماکوں کے ایک ماہ 6 دن بعد پیش آیا ہے، جس میں 190 افراد ہلاک اور 6 ہزار سے زائد زخمی تھے جب کہ ہزاروں عمارتیں تباہ اور کم از کم 3 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔