بلوچستان بلوچ کی شناخت اور ساحل اس کا اثاثہ ہے،عبدالمالک بلوچ

48

گوادر (نمائندہ جسارت) میر حاصل خان بزنجو نے اپنے سیاسی اصولوں پر کبھی بھی سمجھوتا نہیں کیا، مکران میں نیشنلزم کا راستہ روکنے کی سازششیں کی جارہی ہیں، بلوچستان بلوچ کی شناخت اور ساحل اس کا اثاثہ ہیں، بلوچستان کے معروضی حالات بلوچستان کے حقیقی قوم پرستوں سے اپنی حکمت عملی پر دعوت فکر کا متقاضی ہے۔ بلوچستان کے مجموعی مفادات کے تحفظ کے لیے نیشنل پارٹی بلوچستان کے تمام حقیقی قوم دوست قوتوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر مقررین نے نیشنل پارٹی اور بی ایس او (پجار) گوادر کے زیر اہتمام سید ظہور شاہ ہاشمی آڈیٹوریم آر سی ڈی کونسل گوادر میں نیشنل پارٹی کے قائد مرحوم سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں اشرف حسین، واجہ ابوالحسن، گوادر کے سینئر رہنما محمد حیاتان، بی این پی مینگل کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر عزیز، ضلعی صدر کہدہ علی، بی این پی عوامی کے مرکزی رہنما رہنما ایڈووکیٹ سعید فیض، گوادر بار کے صدر شے خالد حسین ایڈووکیٹ، بی ایس او پجار کراچی زون کے صدر ظریف دشتی اور معروف سماجی رہنماء عبدی خان بجار نے اپنے خطاب میں میر حاصل خان بزنجو کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ میر حاصل خان بزنجو عدم تشدد، پُرامن سیاسی جدوجہد اور وفاقیت کی سیاست سمیت بقائے باہمی احترام کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے، وہ ایک اصولی سیاست دان تھے، انہوں نے مصلحت پسندی کو کبھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا بلکہ وہ اپنی بات دو ٹوک کہنے کا عادی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ناقدین نے میر حاصل خان بزنجو پر بہت الزام تراشی کی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ انہوں نے اپنے سیاسی اصولوں پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آج ملک بھر کے سیاسی اور جمہوری سوچ رکھنے والی قوتیں میر حاصل خان کو خراج پیش کررہی ہیں، جو اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر حاصل خان ملک بھر میں بلوچستان کی سیاست کا روشن چہرہ تھے ان کی تمام عمر محکوم اقوام کے لیے آواز اٹھانے، جمہوریت کی سربلندی اور آمریت کیخلاف جدوجہد میں گزری ہے۔ میر حاصل خان بزنجو کی بے وقت رحلت سے ان کی جماعت اور ملک ایک اچھے سیاستدان سے محروم ہوگیا۔ بلوچستان کے معروضی حالات تشویش ناک ہیں، بالخصوص مکران میں نیشنلزم کی سوچ کو ختم کرنے کے لیے سازشیں کی جارہی ہیں، انتخابات میں مداخلت کی جاتی ہے اور عوام کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا۔ نیشنل پارٹی مجموعی مفادات کے تحفظ کے لیے سب سیاسی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرنے کو تیار ہے۔ ہمیں حالات کے جبر سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلوچستان سیاسی، شعوری اور فکری حوالے سے ابھی بانجھ نہیں ہوا ہے، جبر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں، یہ وزارتیں اور ایم پی اے شپ ہمارا نصیب العین نہیں، نادیدہ قوتیں چاہے ہمیں الیکشن میں ہزار بار گرائیں لیکن ہمارا مقصد جمہوریت کی بحالی، پارلیمنٹ کی مضبوطی، عدلیہ و صحافت کی آزادی اور قوم کی خوشحالی ہے۔