بحرین اسرائیل سے معاہدے پررضا مند ہو گیا، ٹرمپ

123

واشنگٹن/غزہ سٹی(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب ملک بحرین بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر رضامند ہوگیا۔ مشی گن میں ریلی سے خطاب اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آج ایک اور تاریخی پیشرفت ہوئی ہے، ہمارے 2بہترین دوست اسرائیل اور بحرین امن معاہدے کے لیے رضا مند ہو گئے ہیں۔امریکی صدر نے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیا من نیتن یاہو اور بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بحرین 30 روز کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والا دوسرا عرب ملک ہے۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ کیاکہ کچھ ہی عرصے میں دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں گے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوجائے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی فون پر بات ہوئی ہے۔امریکی صدر نے ریلی سے خطاب میں جوبائیڈن کو صدارتی انتخابات کی تاریخ کا بدترین امیدوار قرار دیا۔ علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرقِ وسطیٰ اوریہودی داماد جیرڈ کشنر نے کہا ہے کہ تمام اسرائیلی پروازوں کے لیے سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود کھول دی ہیں، فضائی حدود کھولنے سے لوگوں کا بہت وقت بچ جائے گا اور ان کے سفر میں 72 برس سے قائم رکاوٹ ختم ہوجائے گی،سعودی فیصلہ ایک بڑی رکاوٹ ہٹانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہخطے کے دیگر ممالک بھی قدیم تنازعات کو چھوڑ کر امن کی جانب گامزن ہیں۔ امریکی مشیر نے بتایا کہ بحرین نے بھی اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ سعودی عرب کی فضائی حدود سے اسرائیلی طیارے ایشیا اور دیگر خطوں کے لیے مختصر راستوں پرسفر کریں گے۔ دوسری جانب مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وائٹ ہائوس کے سامنے امریکا کی 50 تنظیموں کے مندوبین اور شہریوںکی بڑی تعداد نے امارات اور اسرائیل کے شرمناک معاہدے کے خلاف مظاہرہ کیا ۔ مظاہرے میں انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے میدان میں کام کرنے والی 50 تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرے میں امریکا میں مقیم عرب، مسلمان شہریوں اور فلسطینی تارکین وطن کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کو تسلیم نہیں کرتے ، 15ستمبر کو دستخط کے موقع پر اس کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔